’امیر تیمور کے لیے معذوری مجبوری نہ بنی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 دسمبر 2012 ,‭ 15:52 GMT 20:52 PST

چودہویں صدی عیسوی میں گمنامی کے اندھیروں سے نکل کر عظیم فاتح کہلانے والے تیمور لنگ نے اپنے دشمنوں کی کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ اس دور میں جسمانی طاقت ایک بڑا اثاثہ تھی اور اپنے دشمنوں کو نیست و نابود کر دینا ایک کارنامہ تصور کیا جاتا تھا۔

یہ عظیم فاتح اپنے وطن ازبکستان میں امیر تیمور کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن مفتوحہ علاقوں میں تاریخ نے انہیں تیمور لنگ کا نام دیا جو تیمور لنگڑے کے عرف سے بگڑ کر تیمور لنگ بنا۔

دنیا کے عظیم جنگجوؤں کے بارے میں اگر آپ سوچیں تو امکان یہی ہے کہ فوری طور پر چنگیز خان اور سکندر اعظم کے نام آپ کے ذہن میں آئیں گے۔ اگر آپ کا تعلق وسطی ایشیا اور مسلم دنیا سے نہیں ہے تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ آپ کے ذہن میں تیمور لنگ کا نام آئے۔

تیمور لنگ کی پیدائش 1336 میں سمرقند کے نزدیک ہوئی جو اب ازبکستان کا حصہ ہے۔

سکندر کی طرح تیمور لنگ کا تعلق کسی شاہی خاندان سے نہیں بلکہ غریب خاندان سے تھا۔

تیمور لنگ نے تیزی سے اپنی فتوحات کا سلسلہ شروع کیا اور وہ وسطی ایشیا کے میدانوں سے لے کر کوہستانی دروں سے تیزی سے گزرتے گئے۔

چنگیز خان کی طرح تیمور لنگ کی فوج میں کسی ایک ملک یا طبقے کے سپاہی نہیں تھے۔ ان کی کامیاب فوج میں مختلف قومیتوں، علاقوں اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے فوجی تھے۔

قبر کشائی کے بعد معلوم ہوا

سابق سوویت یونین میں میخائل گرازیموف کی قیادت میں آثارِقدیمہ کی ایک ٹیم نے سمرقند میں تیمور لنگ کی قبرکشائی کی جس پر معلوم ہوا کہ تیمور لنگ ’لنگڑے‘ تھے۔

جب تک وہ 1402 میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان بازید کے سامنے میدان جنگ میں اترے تو ان کے سپاہیوں میں آرمینیا سے لے کر افغانستان اور سمرقند سے سربیا تک کے لوگ شامل تھے۔

پیدائش کے وقت انہیں تیمور نام دیا گیا جس کا مطلب ’لوہا‘ ہے ۔ جوانی میں ہی وہ شدید زخمی ہوئے اور دائیں پیر سے لنگڑانے لگے اور ان کا نام تیمور لنگ پڑگیا۔ مغربی ممالک میں انہیں اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ انہیں یہ زخم کیسے آئے اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا گیا۔

ایک ایسے دور میں جب سیاسی طاقت کے لیے جنگی صلاحیتیں بہت اہم سمجھی جاتی تھیں اس طرح کی معذوری کسی بھی مرد کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہو سکتا تھا۔

نوجوان تیمور کو یہ مقامی کہاوت معلوم تھی کہ ’جو ہاتھ تلوار اٹھا سکتا ہے وہی تخت وتاج کا حقدار ہوتا ہے‘۔

اس زمانے میں ایک کے بعد ایک جنگی کامیابی اور بڑھتی ہوئی عظیم الشان فوج کے ساتھ آگے بڑھنا ناقابلِ تصور تھا۔

سپین کے سفارتکار کلاوی نے جو 1404 میں سمرقند گئے تھے لکھا ہے کہ کس طرح تیمور لنگ نے سیستان کے گھڑ سواروں کی ایک بڑی تعداد سے نپٹا جس نے تیمور کے بہت سے سپاہیوں کو موٹ کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

1941 میں سابق سوویت یونین میں میخائل گرازیموف کی قیادت میں آثارِقدیمہ کی ایک ٹیم نے سمرقند میں تیمور لنگ کی قبرکشائی کی جس پر معلوم ہوا کہ تیمور لنگ ’لنگڑے‘ تھے۔

ان کے دائیں کولہے میں اس جگہ زخم تھا جہاں ہڈی گُھٹنے تک جاتی ہے۔ اس لیے ان کی دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ کے مقابلے میں چھوٹی تھی جس کے سبب وہ لنگڑا کر چلتے ہوں گے۔

چودہویں صدی میں ان کے دشمن مثلاً سلطنتِ عثمانیہ کے حکمران ہوں یا پھر بغداد یا دمشق کے حکمران اُن کے لیے تیمور کو جنگ میں شکست دینا تو مشکل تھا تاہم ان کی ٹانگ کا مذاق اڑانا آسان تھا۔

یہاں تک کہ دمشق کے رہنے والے مورخ احمد بن عربشاہ، جن کا شمار ان کے سخت ناقدین میں ہوتا ہے، انہوں نے بھی تسلیم کیا تھا کہ تیمور ’ایک انتہائی باہمت اور طاقتور‘ حکمران تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔