برطانیہ: مسلمان نوجوانوں کی حراست میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 15:57 GMT 20:57 PST

برطانیہ میں زیر حراست نوجوان اور بچوں کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال مجرمامہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی بحالی کے اداروں میں ہر پانچوں مرد مسلمان تھا اور اس شرح میں گزشتہ دو سالوں کے دوران آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جیل کے چیف انسپکٹر کی رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار گیارہ دو ہزار بارہ میں اکیس فیصد نوجوانوں نے اپنی شناخت بحیثیت مسلمان کروائی۔ یہ شرح دو ہزار نو دو ہزار دس میں سولہ فیصد تھی۔

جیل میں زیر حراست نوجوان افراد کی تعداد میں گزشتہ سال کےمقابلے میں چودہ فیصد کمی ہوئی ہے اور رواں سال کے دوران پندرہ سے اٹھارہ سال کے عمر کے ایک ہزار پانچ سو تینتالیس نوجوان حراست میں ہیں جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد ایک آٹھ سو بائیس تھی۔

یوتھ جسٹس بورڈ کے تعاون سے شائع ہونے والے اس سالانہ جائزے کے مطابق زیر حراست سیاہ فام اور دیگر اقلیتوں کے تناسب میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جیل خانہ جات کے سربراہ نیک ہارڈوک نے نوجوان افراد سے کہا ہے کہ وہ دوران حراست اپنے تجربوں سے آگاہ کریں تاکہ یوتھ جسٹس پالیسی میں تبدیلی لائی جاسکے۔ انہوں نے نوجوانوں کی دوران حراست غیر محفوظ ہونے کے تاثر پر تشویش کا اظہار کیا۔

گزشتہ سال ستائیس فیصد کے مقابلے میں رواں سال بتیس فیصد نوجوانوں نے کہا ہے کہ وہ جیل میں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمھجتے تھے۔

اس جائزے میں آٹھ جیلوں میں قید نو سو چھبیس نوجوانوں مردوں اور تین جیلوں کی پچیس خواتین کو شامل کیا گیا ہے جو اپریل دو ہزار گیارہ سے مارچ دو ہزار بارہ تک حراست میں رہے۔

ان میں سے پچیس فیصد کا کہنا تھا کہ وہ دوران حراست دوسرے نوجوان افراد کے ہاتھوں انتقام کا نشانہ بنے جبکہ تیئس فیصد کو عملے کے لوگوں نے نشانہ بنایا۔ صرف چھپن فیصد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک سے آگاہ کیا اور محض اٹھائیس فیصد کی شکایت کو سنجیدہ لیا گیا۔

جیل خانہ جات کے سربراہ نیک ہارڈوک کا کہنا ہے کہ یہ اعداد وشمار مایوس کن حد تک زیادہ ہیں۔

یوتھ جسٹس بورڈ کے چیئرمین فرانسس ڈون کا کہناہے کہ کارکردگی کا جائزہ لینے اورمزید بہتری کے اقدامات کے لیے یہ رپورٹ ہر سال تشکیل دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ زیر حراست بچے اُن میں سے ہیں جن کی ضروریات زیادہ ہیں اور ان کی فلاح و بہبود اور حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم اس رپورٹ کے نتائج اور اپنے محکوں کے تعاون سے اس کے تمام اثرات کا جائزہ لیں گے۔ ‘

یوتھ جسٹس بورڈ کا قیام انیس سو ستانوے میں ہوا تھا جس کا مقصد نوجوانوں کے لیے انصاف کے نظام کا معائنہ کرنا اور اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو حراست کے دروان محفوظ ماحول مہیا کرنا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔