’ملک کو تاریک سرنگ میں نہ جانے دیں گے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 15:33 GMT 20:33 PST

قاہرہ میں صدر مرسی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

مصر کی فوج نے کہا ہے کہ صدر مرسی کے نئے اختیارات کے تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور کہا ہے کہ وہ مصر کو ’تاریک سرنگ‘ میں جانے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے گی۔

احتجاجی مظاہرے پھوٹنے کے بعد اپنے پہلے بیان میں فوج نے عوامی اداروں اور معصوم عوام کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ بیان اس وقت آیا ہے جب قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرے جاری ہیں۔

حزبِ اختلاف نے صدر کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ جب تک وہ اپنے اختیارات میں کمی نہیں لاتے اور آئینی ریفرینڈم کو منسوخ نہیں کرتے، مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

ناقدین نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی میں آئین کے مسودے کو بغیر مشاورت کے عجلت میں پیش کیا گیا اور اس میں سیاسی اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائب صدر محمود مکی نے عندیہ دیا ہے کہ حزبِ اختلاف اگر بعد میں اس تحریک کی مخالفت نہ کرے تو صدر مرسی پندرہ دسمبر کو ہونے والے ریفرینڈم کو ملتوی کر سکتے ہیں۔

فوج کے بیان کو ایک ترجمان نے ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنایا: ’مسلح افواج ۔۔۔ کو ملک کے اعلیٰ تر مفاد کے تحفظ اور اہم اہداف، عوامی اداروں اور معصوم عوام کی نگہبانی کے لیے اپنی ذمے داریوں کا احساس ہے۔

"اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات واحد اور بہترین راستا ہے۔ اگر اس کے برعکس ہوا تو اس سے ہم ایک تاریک سرنگ میں پہنچ جائیں گے جو تباہی کا باعث بنے گی اور ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔"

مصری فوج

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مسلح افواج یہ مانتی ہیں کہ اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے مذاکرات واحد اور بہترین راستہ ہے۔ اگر اس کے برعکس ہوا تو اس سے ہم ایک تاریک سرنگ میں پہنچ جائیں گے جو تباہی کا باعث بنے گی اور ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔‘

فوج نے فروری 2011 میں صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد مصر پر ایک برس سے زیادہ عرصہ حکمرانی کی تھی۔ قاہرہ سے بی بی سی کی نامہ نگار شائمہ خلیل کہتی ہیں کہ حالیہ تنازع میں فوج اب تک پس منظر ہی میں رہی ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر اس قدر منقسم ہے کہ فوج کسی ایک جماعت کے جانبدار کے روپ میں سامنے نہیں آنا چاہتی۔صدر کی حامی جماعت اخوان المسلمون کے سینیئر عہدے دار عبدالخالق الشریف نے کہا ہے کہ فوج کا بیان ’متوازن‘ تھا۔

انھوں نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’یہ بیان فوج کی عوام سے وفاداری کا اعلان کرتا ہے جو اچھی چیز ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔