حزبِ اختلاف نے صدر مرسی کی پیشکش کو مسترد کر دیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 01:37 GMT 06:37 PST
مصر

مصر کا سیاسی بحران کم ہوتا نظر نہیں آتا

مصر میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کی طرف سے لگائی گئی رکاوٹوں کو توڑنے کے بعد قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کیا ہے۔

دسیوں ہزار افراد صدر محمد مرسی کی طرف سے کی گئی مذاکرات کی پیشکش کو رد کرنے کے بعد محل کے قریب جمع ہو گئے۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر مرسی نے اپنے اختیارات کو وسیع کرنے اور نئے آئینی مسودے پر ریفرنڈم جیسے فیصلوں پر کسی رعایت کی پیشکش نہیں کی ہے۔

ایک اعلی سرکاری اہلکار نے کہا کہ صدر مرسی مشروط طور پر ووٹ ملتوی کر سکتے ہیں۔

مصری قانون کے تحت صدر کے سامنے پیش کیے جانے کے دو ہفتے کے بعد ریفرنڈم کو منعقد ہونا چاہیئے۔

تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نائب صدر محمود میکی نے کہا ہے کہ صدر مرسی پندرہ دسمبر کو ہونے والی رائے شماری میں تاخیر لا سکتے ہیں اگر حزبِ اختلاف اس بات کی ضمانت دے کہ وہ ان وجوہات کی بنا پر اس کو چیلنج نہیں کرے گی۔

ایک علیحدہ پیش رفت میں، الیکشن کمیشن نے بیرون ملک رہنے والے مصریوں کے لیے ووٹنگ ملتوی کر دی ہے۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ ووٹنگ جو ہفتہ کو شروع ہونی تھی اب وزارت خارجہ کی درخواست پر بدھ کو شروع ہوگی۔

مصر

صدر مرسی کے حامیوں نے بھی ہلاک ہونے والے کی موت کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے

جمعہ کو صدر کے لبرل اور سیکولر مخالفین صدارتی محل کے گرد جمع ہو گئے۔

اس کے بعد انہوں نے خار دار تار کاٹ دیے اور محل کی بیرونی دیواروں پر چڑھ گئے اور وہاں گریفیٹی سپرے کی۔

دریں اثناء صدر مرسی کے حامیوں نے بھی دارالحکومت میں مارچ منعقد کیا، جہاں انہوں نے ہفتے کے آغاز میں جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کے جنازہ میں ان کی موت کا انتقام لینے کا عہد کیا۔

ہجوم نعرے لگا رہا تھا کہ ’مصر اسلامی ہے، یہ سیکولر نہیں ہو گا، یہ لبرل نہیں ہو گا۔‘

اہم اپوزیشن تحریک قومی سالویشن فرنٹ نے کہا کہ وہ بحران کے حل کے لیے سنیچر کو صدر مرسی کی طرف سے منعقد کیے جانے والے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی۔

اس تحریک کے سربراہ یا چیف کورڈینیٹر نوبل انعام یافتہ محمد البرادعی نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں سیاسی گروپوں سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں حصہ نہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسا ڈائیلاگ چاہتے ہیں جو بازو مروڑنے کی پالیسی یا بحثِ فضول پر مبنی نہ ہو۔‘

دو دیگر اپوزیشن گروپوں، لبرل وفد پارٹی اور نیشنل ایسوسی ایشن فار چینج نے کہا کہ وہ بھی مذاکرات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر محمد مرسی نے سیاسی بحران کو کم کرنے کے لیے سنیچر کو حزبِ مخالف کے رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے بلایا تھا۔

صدر مرسی نے کہا تھا کہ آئین کی اس متنازع شق میں جس میں ان کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے حزبِ اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے بعد ترمیم کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اعلامیہ پندرہ دسمبر کو نئے آئین پر متوقع ریفرنڈم کے بعد منسوخ کر دیا جائے گا، چاہے ریفرنڈم کا کوئی بھی نتیجہ سامنے آئے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ریفرنڈم منصوبے کے مطابق ہی ہو گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔