سری لنکا: چیف جسٹس قصوروار قرار دے دی گئیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 13:31 GMT 18:31 PST

سری لنکا کی چیف جسٹس شیرانی بندرانائکے سپریم کورٹ کے باہر

سری لنکا کی پارلیمانی کمیٹی نے چیف جسٹس شیرانی بندرانائکے کو بے ضابطگی کے تین الزامات میں قصوروار قرار دیا ہے۔ انھیں جنوری میں پارلیمان کے ووٹ کے ذریعے برطرف کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے مالیاتی اور پیشہ ورانہ بے ضابطگیوں کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے نجات حاصل کرنا اور عدلیہ کی آزادی پر ضرب لگانا چاہتی ہے۔

مسز بندرانائکے کے خلاف تفتیش اس کے بعد شروع کی گئی تھی جب انھوں نے کئی حکومتی بلوں کے خلاف فیصلے دیے تھے۔ ان میں صدر مہندرا راجاپاکسے کے بھائی اور معاشی ترقی کے وزیر باسل راجاپاکسے کے اختیارات میں اضافہ کرنے کا بل بھی شامل تھا۔

حکومتی وزیر اور کمیٹی کے رکن نمل سری پالا ڈی سلوا نے کہا، ’ہم نے جن پہلے پانچ الزامات کی تفتیش کی ان میں سے تین میں انھیں قصوروار پایا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو جائیداد کے ایک غیرقانونی سودے اور کئی بنک اکاؤنٹ ظاہر نہ کرنے کا قصوروار پایا گیا ہے۔

پارلیمانی قواعد کے تحت اگر چیف جسٹس کو ایک بھی الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا، اور 225 ارکان کے ایوان کی اکثریت نے ان کے خلاف ووٹ دیا، تو صدر انھیں برطرف کر سکتے ہیں۔

صدر کی جماعت کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔

مسز بندرانائکے نے کمیٹی پر تنقید کی ہے کہ انھیں اپنے دفاع کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا، درست قواعد و ضوابط کی پیروی نہیں کی گئی اور رپورٹ مکمل کرنے میں غیرمناسب عجلت سے کام لیا گیا ہے۔

جمعرات کو انھوں نے پینل پر موجود چار ارکانِ پارلیمنٹ سمیت سماعت سے واک آؤٹ کیا۔

کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ اسے مواخذے کے اس عمل پر ’سخت تشویش‘ ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت قانون کی پاسداری کرے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر راجاپاکسے نے 2009 میں خونریز اور طویل جنگ کے بعد تمل ٹائیگر باغیوں کو کچلنے کے بعد اپنی ذات میں بے تحاشا طاقت مجتمع کر لی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کو شمالی سری لنکا میں تمل آبادی والے علاقوں کی صورتِ حال پر تشویش ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔