دمشق: ایک شہر میں دو شہر

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 20:40 GMT 01:40 PST

دمشق دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے

شام کا دارالحکومت اس وقت چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔

میں شہر کے مرکز میں ہوں، یہ جگہ دنیا کی جگہوں میں سے ایک سے زیادہ دور نہیں ہے، یعنی دمشق کا قدیم قلعہ بند شہر۔

اسی علاقے میں 1400 برس پرانی امیہ مسجد واقع ہے۔ یہاں تاریخ کی تہیں ایک دوسرے کے اوپر چڑھی ہوئی ہیں۔

بازار میں رومن ستون محرابی چھتیں کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ لوگ اب بھی اس گلی میں رہتے اور کام کاج کرتے ہیں جسے الشارع المستقیم کہا جاتا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں انجیل کے مطابق سینٹ پال نے دمشق جاتے ہوئے اندھے ہونے کے بعد قیام کیا تھا۔

اس دمشق کے قریب ہی ایک اور دمشق مضافات میں آباد ہے۔ مسلح باغی اس کے بڑے حصوں پر قابض ہیں اور اسے سرکاری فوج نے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

میرا تعلق برطانیہ سے ہے۔ لفظ مضافات سے میرے ذہن میں باغات، باڑ والے لان اور سکول جاتے ہوئے بچوں کی تصویر بنتی ہے لیکن دمشق کے مضافات اس سے مختلف ہیں۔ یہ کنکریٹ کے دم پخت جنگل ہیں، جو ان لوگوں کے لیے بنائے گئے تھے جو دیہات میں افلاس اور بھوک سے بھاگ کر دارالحکومت میں روزگار کی تلاش میں آئے تھے۔

2006 اور 2011 کے درمیان دیہی علاقوں میں تاریخ کی بدترین خشک سالی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے بھی بہت سے شامی صدر بشارالاسد کی مخالفت میں جان سے گزرنے کے لیے آمادہ ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس قحط کے باعث آٹھ لاکھ افراد کا روزگار ختم ہو گیا تھا اور شمال مشرقی شام میں 85 فیصد مویشی ہلاک ہو گئے تھے۔

حکومت نے صورتِ حال کو اس وقت مزید بگاڑ دیا جب اس نے بڑے زمینداروں کو مراعات دے دیں جو کپاس اور گندم جیسی زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلیں اگاتے تھے۔ اب شمال مشرقی شام باغیوں کا گڑھ ہے۔

باغیوں نے دمشق کے مضافات کے بڑے حصوں پر قبضہ جما رکھا ہے

جو لوگ دمشق کے مضافات میں صدر کے خلاف بندوقیں اٹھائے پھرتے ہیں ان میں سے بعض سوکھے اور بے جان کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ یہ لوگ غصے سے تلملا کر حالات کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک ماہ قبل تک شام میں جاری جنگ تعطل کا شکار تھی۔ کسی فریق کو کسی دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہو رہی تھی لیکن اب ایسا نہیں لگتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلح باغیوں نے دمشق میں اپنی سرگرمیاں تیز تر کر دی ہیں۔

میں آخری بار جنوری میں یہاں آیا تھا۔ اس دوران میں یہاں اس لیے نہیں آ سکا کہ ان دنوں شام کا ویزا ملنا آسان نہیں ہے۔

سال کے آغاز پر مسلح باغی پہلی بار مضافات میں نظر آئے۔ ایک صبح جب میں دوسرے صحافیوں کے ساتھ ایک مظاہرہ کار کے جنازے میں جا رہا تھا تو اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب آخری پولیس ناکے کے کچھ دیر بعد فری سیرین آرمی کا علاقہ شروع ہو گیا۔

اس کے بعد سے باغیوں نے اپنی طاقت بڑھانا شروع کر دی ہے۔ دمشق فوری طور پر فتح ہونے والا نہیں لیکن اس کے مرکز اور حکومت کے گڑھ کو یہ محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے جیسے وہ محاصرے میں ہے۔

اگرچہ حکومت کے قبضے میں بہت سی سڑکیں ضرور ہیں لیکن سرکاری عمارتوں اور فوجی ہیڈکوارٹر کے گرد بم حملوں کو روکنے کے لیے جگہ جگہ سکیورٹی زون نظر آتے ہیں۔ مضافات کو جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جن کی وجہ سے دمشق کے شہریوں کو لمبے ٹریفک جام کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ گولہ باری کا مسئلہ الگ ہے۔ اگرچہ گولے مضافات کی طرف داغے جاتے ہیں لیکن دن رات ان کی آوازیں سننا اعصاب شکن تجربہ ہے۔

"اگر امن معاہدہ نہ ہو سکا تو شام ناکام ریاست بن جائے گا اور وہاں صومالیہ کی طرح جنگجو سرداروں کا راج ہو گا۔"

مختار لامانی

چند روز پہلے میں مختار لامانی سے بات کر رہا تھا جو اقوامِ متحدہ کے امن ایلچی لخضر براہیمی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کوئی سفارتی کام اس سے مشکل نہیں جو انھوں نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے۔ وہ مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔

لامانی کہتے ہیں کہ اگر امن معاہدہ نہ ہو سکا تو شام ناکام ریاست بن جائے گا اور وہاں صومالیہ کی طرح جنگجو سرداروں کا راج ہو گا۔

بلکہ صومالیہ سے بھی بدتر، کیونکہ صومالیہ نسبتاً الگ تھلگ ملک ہے جبکہ شام اپنے آس پاس کے ملکوں سے مذہبی، نسلی اور خاندانی رشتوں میں گندھا ہوا ہے۔

شام مشرقِ وسطیٰ کے نقشے میں ایک بے حد نازک مقام پر واقع ہے۔ شام کے پڑوسی ملک ترکی، اردن اور اسرائیل پہلے ہی شام میں جاری جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

صورتِ حال بے حد سنگین ہے اور اس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔