ایچ ایس بی سی پر 190 کروڑ ڈالر جرمانہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 00:16 GMT 05:16 PST
بیینک

بینک نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے یہاں منی لانڈرنگ پر کنٹرول کرنے کا نظام اچھا نہیں ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی بینک ایچ ایس بی سی منی لانڈرنگ کے معاملے میں جاری تحقیقات کے تحت امریکی حکام کو ایک ارب نوے کروڑ ڈالر بطور جرمانہ ادا کرےگا جو ایسے کسی معاملے میں اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہوگا۔

بینک پر الزام ہے کہ اس نے منشیات کا دھندہ کرنے والوں اور ان ممالک کے دھن کو جمع کرنے میں مدد کی جن پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔

اس سال کے اوائل میں امریکی سینیٹ کی تحقیقات کے بعد بینک نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے ہاں منی لانڈرنگ پر کنٹرول کرنے کا نظام اچھا نہیں ہے۔

گذشتہ ماہ بینک نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کے سمجھوتے یا جرمانے کی صورت میں ایک سو پچاس کروڑ ڈالر علیٰحدہ رکھ دیے تھے۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اس سمجھوتے کا اعلان منگل کی صبح کر دیا جائے گا۔

اسی طرح کے ایک اور واقعے میں برطانوی بینک سٹینڈرڈ چارٹرڈ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں تین سو ملین ڈالر بطور جرمانہ ادا کرے گا۔

بینک پر اس جرمانے کی پہلے سے ہی توقع کی جا رہی تھی۔ امریکی سینیٹ کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو اور امریکہ میں بینک کے اکاؤنٹس کو منشیات کا دھندا کرنے والے گروہ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بینک نے ایران، شمالی کوریا اور ایسے دوسرے ممالک کے ساتھ سودا کرنے میں کوئی گریز نہیں کیا جن پر امریکی پابندیاں عائد تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔