فوج امن وامان قائم کرے: محمد مرسی

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 05:25 GMT 10:25 PST

مصری صدر محمد مرسی نے فوج کو سکیورٹی صورت حال کو کنٹرول کرنے کا حکم دیا ہے

مصر کے صدر محمد مرسی نے فوج کو ملک میں ریفرینڈم کی تیاری کے دوران امن و امان قائم کرنے اور ریاستی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

نیا صدارتی فرمان پیر سے لاگو ہوگا جس کے تحت فوج سے کہا گیا ہے کہ سکیورٹی کی صورت حال قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ رابطے میں رہے۔ فوج کو عام شہروں کو گرفتار کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق فوج اس وقت تک سکیورٹی کی صورت حال کنٹرول کرے گی جب تک ریفرینڈم کے نتائج کا اعلان نہ ہو۔

فوج نے صدارتی محل کے باہر سکیورٹی کے لیے کنکریٹ کی دیوار بنائی ہے۔

یاد رہے کہ مصر کا صدارتی محل حالیہ احتجاجی مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ نئے صدارتی حکم سے مصر میں دوبارہ فوجی آمریت آنے کے خدشات بڑھیں گے۔

صدر محمد مرسی نے سنیچر کو اپنے مخالفین کو رعایت دیتے ہوئے اپنے اختیارات میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا تاہم آئینی مسودے پر ہونے والا ریفرینڈم مقررہ وقت پندرہ دسمبر کو کروانے کا فیصلہ قائم رکھا تھا۔

ایک اعلان کے مطابق مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے اختیارات کو وسعت دینے والا حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔

فوج مصری صداتی محل کے سکیورٹی پر مامور ہے

یہ فرمان تو کالعدم قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے تحت لیے گئے بعض فیصلے قائم رہیں گے۔

حزبِ اختلاف کے مطالبات میں سے ایک اہم مطالبہ ریفرینڈم کو روکنا بھی تھا، اس لیے انھوں نے صدر مرسی کے اختیارات کے حکم کو کالعدم قرار دینے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔

صدر مرسی کے مخالفین نے منگل کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف اسلام پسند گروپوں نے بھی اپوزیشن گروپوں کے خلاف جوابی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے قاہرہ میں خونریز جھڑپیں ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

نیشنل سالویشن فرنٹ نے اتوار کو ایک اجلاس کے بعد کہا کہ وہ آئینی مسودے کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ مصری عوام کی ترجمانی نہیں کرتا۔

نیشنل فرنٹ کے ترجمان سمیح اشور نے کہا کہ ہم ریفرینڈم کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس سے اختلاف اور بغاوت مزید بڑھے گا۔

تاہم ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ حزب اختلاف کے گروپ ریفرنڈم کا بائیکاٹ کریں گے یا نہیں۔

صدر کے مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کا طرزِ عمل ایک آمر کی طرح ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ انقلاب کا تحفظ کر رہے ہیں۔

محمد مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کی عدلیہ سابق صدر حسنی مبارک کے دور کے ان افراد پر مشتمل ہے جو ہر حکومتی فیصلے پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ مہینے مصری صدر محمد مرسی نے صدارتی اختیارات میں اضافے کا فرمان جاری کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے التحریر سکوائر میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے پہلے مصر کی فوج نے کہا تھا کہ صدر مرسی کے نئے اختیارات کے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور وہ مصر کو ’تاریک سرنگ‘ میں جانے سے روکنے کے لیے مداخلت کرے گی۔

مصر کی فوج کی جانب سے یہ بیان قاہرہ میں صدارتی محل کے باہر مظاہرے کے بعد سامنے آیا تھا۔

فوج نے فروری 2011 میں صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد مصر پر ایک برس سے زیادہ عرصہ حکمرانی کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔