’افغان خواتین کے خلاف تشدد پر سزا مشکل سے ملتی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 08:30 GMT 13:30 PST
افغانستان کی خواتین

افغانستان میں خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات عام ہیں

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد کرنے والوں کو مشکل سے سزا ملتی ہے اور خواتین کو مکمل انصاف کے لیے ابھی لمبی لڑائی لڑنی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ دوہزار نو میں انسداد تشدد کا جو قانون بنایا گیا تھا اس کے نفاذ میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اب بھی اس قانون کا صحیح طریقے سے استعمال کم ہی ہوتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے روایتی سماج میں خواتین کو اپنی لاج اور عزت بچانے کے نام پر تشدد کے خلاف آواز نہ اٹھانے کا ثقافتی دباؤ اور پولیس کا غیر متوازن طریقہ کار اس قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا اکثر فیصلہ قبائلی جرگوں میں ہوتا ہے جو قانون کے مطابق انصاف نہیں کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب حال ہی میں افغانستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑے واقعات سامنے آئے ہیں۔

گزشتہ مہینے قندوز صوبے میں دو افراد کو مبینہ طور پر ایک لڑکی کے والد کی جانب سے شادی کے پیغام کو مسترد کرنے کے بعد لڑکی کا سر قلم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بارے میں صحیح معلومات سامنے نہیں آسکی ہے اور اصل میں ہوا کیا تھا اس بارے میں متضاد رپورٹس ہیں۔

اس کے علاوہ گزشتہ مہینے ہی قندوز صوبے میں ہی چار پولیس اہلکاروں کو ایک لڑکی کی عصمت دری کے الزام میں سولہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب اٹھارہ برس کی متاثرہ لال بی بی نے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایت درج کی۔ واضح رہے کہ افغانستان میں جنسی استحصال کا شکار خواتین مشکل سے ہی آواز اٹھاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ تشدد کے بہت سارے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات منظر عام پر نہ آنے کی وجہ ’ثفافتی دباؤ، معاشرتی رسم و رواج اور متاثر ہونے والی خواتین کی زندگی کو خطرہ ہے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تشدد کے جو واقعات میڈیا میں سامنے آ پاتے ہیں اور جن کے خلاف قانونی کارروائی ہو پاتی ہے وہ ایک بڑے مسئلے کا چھوٹا سا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات کے منظر عام پر آنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے یعنی ماضی کی بنسبت زیادہ خواتین نے تشدد کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں میں تشدد کے خلاف آواز اٹھانے سے متعلق بیداری پیدا ہوئی نہ کہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر کی گئی ہے کہ افغانستان کے روایتی سماج میں خواتین تو اپنے خلاف تشدد کو سہتی رہتی ہیں لیکن پولیس بھی ملزموں کے خلاف کارروائی کرنے میں پیش پیش نہیں رہتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔