کب مذاق ظالمانہ ہو جاتا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 17:25 GMT 22:25 PST

’اس طرح کے مذاق کا نشانہ بننے والے افراد کا ردِعمل اکثر غصہ ہوتا ہے‘۔ ماہرِ نفسیات مائیکل بیری

یاسینتھا سلدھانا کی ہلاکت کے بعد ’پرینک کالز‘ یعنی مزاحیہ طور پر دھوکہ دینے کی فون کالوں کا سلسلہ زیرِ غور آگیا ہے مگر اس پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اب ان کا خاتمہ ہو سکے گا اور مذاق اور بے رحمی کے درمیان حدود کہاں پر ہیں۔

پرینک کالز میں لوگ اپنے کسی ساتھی کو فون کال کر کے کوئی اہم شخصیت ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔ یہ مذاق تو اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ ٹیلی فون۔

یہ کالز پچاس کی دہائی سے ٹی وی اور ریڈیو کے پروگراموں کی زینت بنتی رہی ہیں جب امریکی مذاحیہ اداکار سٹیو ایلن اور جونی کارسن نے ’ٹونائٹ شو‘ پر انہیں کرنا شروع کیا۔

ماضی میں بہت سی اہم شخصیات کے ان کالز کی وجہ سے بیوقوف بننے کی مثالیں ہیں۔ سنہ انیس سو پچانوے میں ملکہِ برطانیہ سترہ منٹ تک ایک شخص کو کینیڈا کا وزیرِاعظم سمجھ کر بات کرتی رہیں۔ وہ اصل میں کینیڈا کے ایک ریڈیو پریزنٹر پیئر براسارڈ تھے۔

سنہ انیس سو اٹھانوے میں وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کو ایک شخص نے حزبِ اختلاف کے سربراہ ولیم ہیگ بن کر کال کی۔ وزیرِاعظم ٹونی بلیئر فوراً سمجھ گئے کہ یہ ایک مذاق ہے مگر انھوں نے اس مذاق کا برا نہیں منایا۔

دو ہزار چھ میں خارجہ امور کی سیکٹری مارگریٹ بیکٹ سمجھیں کہ انھیں چانسلر گورڈن براؤن نے فون کیا ہے۔ درحقیقت وہ لوگوں کی نقل اتارنے والے روری برمنر تھے۔

مگر لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ، شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیتھرین تک ایک جعلی کال کی رسائی دینے کے بعد یاسینتھا سلدھانا کی ہلاکت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات و واقعات کے بعد کیا اب مستقبل میں کوئی پرینک کال کرنے والا ایسا عمل کرنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوگا؟

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اب نہیں ہوسکے گا۔ کیپیٹل ایف ایم سٹیشن کے سینکڑوں مزاحیہ کالیں کرنے والے پئنک کا کہنا ہے کہ حالیہ سانحے کے بعد ان کالوں کا جاری رہنا ناممکن ہے۔

’اس کے بعد لوگوں کو تنگ کرنے کا یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔‘ ان کے مطابق گذشتہ چند برسوں میں مزاح سیاسی نزاکتوں کا زیادہ خیال کرنے لگا ہے اور فون ہیکنگ کے سکینڈل کے بعد سے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بھی کوشش جاری ہے۔

گلاسکو کے کلائڈ ون ریڈیو سٹیشن کے رابن گیلووے نے ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ، پیرس ہلٹن اور دیگر شخصیات کو ایسی کالیں کی ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد انھوں نے یہ سلسلہ روک دیا ہے اور آئندہ نشر ہونے والے پروگراموں کے اشتہارات میں سے بھی ایسی کالوں کو نکال دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اب ایسی کالیں نہیں کروں گا۔۔۔ مگر ان واقعات کے بعد مزاحیہ کالیں ختم نہیں ہو جائیں گی۔۔۔ عوام انھیں بھول جائیں گے اور چیزیں پھر ویسی ہی ہو جائیں گی۔‘

’جب یہ کامیاب ہوتی ہیں تو بہت کامیاب ہوتی ہیں اور سامعین کو بہت پسند آتی ہیں۔‘

ملکہِ برطانیہ کے ساتھ جب پیئر براسارڈ نے بات کی تو ملکہ نے روانی سے فرانسیسی زبان میں بات کرتے ہوئے کینیڈا کے کیوبک صوبے میں اُس وقت متوقع ریفرنڈم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کال کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کا مقصد مزاح تھا نا کہ سیاست یا کوئی خفیہ معلومات حاصل کرنا۔

یاسینتھا سلدھانا کیس سے واضح ہوتا ہے کہ مذاق کس طرح نقصان دہ ہو سکتا ہے جب عام شہریوں کو اس کا حصہ بنایا جائے۔

ماہرِ نفسیات مائیکل بیری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذاق کا نشانہ بننے والے افراد کا ردِعمل اکثر غصہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کچھ افراد شرمندگی بھی محسوس کرتے ہیں یا اگر وہ کسی اہم عہدے پر فائض ہوں تو انھیں اپنے وقت کے ضائع ہونے کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔

کسی معروف شخصیت کو تنگ کرنے اور کسی عام فرد کو ایسی کال کرنے میں واضح فرق ہے۔ یاسینتھا سلدھانا تو ایک ہسپتال میں کام کرنے والی عام نرس تھیں جبکہ ٹونی بلیئر یا دیگر اہم شخصیات کو عوام کی نگاہوں کا مرکز بننے کی عادت تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔