برطانیہ: شدت پسندانہ سرگرمیوں میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 16:36 GMT 21:36 PST
برطانوی پولیس

برطانوی پولیس نے تلاشی کے اختیارات استعمال نہیں کیے

برطانیہ میں شدت پسندی سے متعلق کی گئی گرفتاریوں کے نئے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد کارروائیوں میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال کے بارہ ماہ کے دوران انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں شدت پسندی کے شبے میں تقریباً دو سو اٹھائیس افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اس کے برعکس گزشتہ برس صرف ایک سو چالیس افراد کو گرفتار کیا گيا تھا۔

برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار گيارہ میں بیشتر افراد کو امریکی سفارت خانے کے سامنے ’مسلم اگینسٹ کروسیڈ‘ کے نام سے ہونے والے مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

نئے اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شدت پسندی کی روک تھام کے لیے مارچ سنہ دو ہزار گيارہ میں پولیس کو روک کر تلاشی لینے کا جو اختیار دیا گيا تھا اس کا اب تک استعمال نہیں کیا گيا ہے۔

اس قانون کے تحت بعض خاص علاقوں میں پولیس کو ان افراد کی روک کر تلاشی لینے کی بھی اجازت ہے جن کے متعلق شدت پسندانہ کارروائیوں میں بالواسطہ ملوث ہونے کا شک نہ بھی ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔