برطانوی حکومت نے ’فریکنگ‘ کی اجازت دے دی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 17:21 GMT 22:21 PST

ریکنگ میں انتہائی زیادہ دباؤ کے ساتھ تیار کردہ پانی، ریت اور چند کیمیائی اجزا کا مرعکب گیس کے کنواں میں ڈالا جاتا ہے

برطانوی حکومت نے ’فریکنگ‘ نامی گیس نکالنے کے ایک متنازع طریقے کی منظوری دے دی ہے۔ ’کوادرلا‘ نامی کمپنی کو بلیک پول کے علاقے میں زلزلے کے دو جھٹکوں کے بعد فریکنگ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

البتہ اب فریکنگ کے ذریعےگیس نکالنے کی منظوری دے دی گئی ہے مگر زلزلے سے متعلق احتیاطی تدابیر کی شرائط بھی لاگو کی گئی ہیں۔

فریکنگ میں انتہائی زیادہ دباؤ کے ساتھ تیار کردہ پانی، ریت اور چند کیمیائی اجزا کا مرکب گیس کے کنویں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ زیرِ زمین پتھروں میں سے گیس نکالی جا سکے۔اس طرز سے نکالی گئی گیس کو شیل گیس بھی کہا جاتا ہے۔

برطانیہ میں تونائی کے امور کے سیکرٹری ایڈ ڈیوی کا کہنا تھا کہ شیل گیس برطانیہ میں تونائی کا ایک نیا ذخیرہ ہے۔ ان کے مطابق شمالی سمندر میں گیس کی کمی کے پیشِ نظر یہ متبادل ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے اس معاملے میں زیادہ خوشی منانے سے گریز کرنے کو کہا۔ ’ہم شیل گیس کی تلاش کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور یہ آہستہ آہستہ ترقی کرئے گی۔‘

’یہ ضروری ہے کہ اس شعبے میں ترقی کی قیمت مقامی آبادیوں یا ماحول کو ادا نہ کرنے پڑے۔ فریکنگ کو محفوظ ہوناگا اور عوام کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ یہ محفوظ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے زلزلوں کے معمولی جھٹکوں کے بعد کوادرلا میں انتظامی کمزوریاں بے نقاب کی تھیں جنھیں اب درست کر دیا گیا ہے۔

پانی اور مقامی ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ یہ سب پہلے ہی برطانیہ کے تیل اور گیس کے سخت قوانین کے تحت ہیں۔

ایڈ ڈیوی نےکہا کہ شیل گیس گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے برطانیہ کے قانونی اہداف کو حاصل کرنے میں مشکلات حائل نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر، شیل گیس سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار، روایتی طریقے سے درآمد کی گئی گیس سے پیدا ہونے والی مقدار سے تھوڑی ہی زیادہ ہے۔

.امریکہ میں شیل گیس کی تلاش سے تونائی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور وزیرِاعظم کو امید ہے کہ برطانیہ میں بھی ایسا ہی ہوگا۔

مگر حکومتی مشیروں نے خبردار کیا ہے کہ شیل گیس کی وجہ سے برطانیہ میں تونائی کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان کم ہی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کی نگراں کمیٹی نے تنبیہ کی ہے کہ مستقبل کی بجلی کی رسد کے لیے گیس پر زیادہ انحصار کرنے سے کئی خاندانوں کے لیے تونائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا کیونکہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمتیں مستحکم نہیں ہیں۔

کمیٹی نے تونائی کے مختلف نظاموں پر شیل گیس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے اور ان کی پیشنگوئی ہے کہ جوہری اور دیگر تونائی کی مد میں دی جانے والی مراعات کی وجہ سے سنہ دو ہزار بیس تک لوگوں کے بجلی کے بلوں میں تقریباً سو پاؤنڈ کا اضافہ ہوگا۔ تاہم گیس کے ذریعے بجلی فراہم کرنے سے یہ اضافہ چھ سو پاٰؤنڈ تک ہو سکتا ہے۔

رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق برطانوی عوام گیس سے پیدا ہونے والی بجلی کی بجائے ونڈ ٹربائن یعنی ہوا کی تونائی سے پیدا ہونے والی بجلی کو بہتر سمجھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔