مصر میں مجوزہ آئین کی حامی اور مخالف ریلیاں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 دسمبر 2012 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

قاہرہ میں مجوزہ آئین کے حامیوں کی ایک ریلی میں دو ہزار افراد نے شرکت کی

مصر میں صدر مرسی کے حمایتی اور مخالفین نئے آئین کے مجوزہ مسودے پر آئندہ سنیچر کو ہونے والے ریفرنڈم سے قبل ریلیاں نکال رہے ہیں۔

آئین کے تجویز کردہ مسودے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز غیر معیاری انداز میں اور بغیر مشاورت کے تیار کیا گیا ہے اور یہ بہت اسلام پسند ہے۔

صدر مرسی کا اصرار ہے کہ سابق صدر حسنی مبارک سے نئی حکومت تک اقتدار کی منتقلی کے لیے آئین کی ضرورت ہے۔

اس تنازع نے مصر میں فسادات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور شہر اسکندریہ سے تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ملک میں متوقع ریفرینڈم کے پیشِ نظر سکیورٹی کے انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے اور کئی ہزار پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو تعینات کیا جا چکا ہے۔

صدر مرسی نے فوج کو عام شہریوں کو گرفتار کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے جس کے بعد ملک میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ مصر واپس فوجی حکومت کی جانب جا رہا ہے۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود شمالی ساحلی شہر اسکندریہ میں درجنوں افراد نے جھڑپوں میں ڈنڈوں، پتھروں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ان جھڑپوں میں چند افراد زخمی ہوئے اور کئی گاڑیوں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا۔

دارالحکومت قاہرہ میں مجوزہ آئین کے حامیوں کی ایک ریلی میں دو ہزار افراد نے شرکت کی اور مزید ریلیاں نکلنے کا امکان ہے۔

اخوان المسلمون سے منسلک شیخ محمد سید نے جمعے کے ایک خطبے میں کہا ’کل ہم اسلام کی فتح کی کوشش کریں گے‘۔

مصر میں نئے آئین کو گذشتہ سال سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف چلنے والی تحریک کے بعد ایک انتہائی اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم اس ماہ کے آغاز میں اسلام پسندوں کی اکثریت والی پچاسی ممبران پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کی جانب سے منظوری کے بعد، ملک میں اس معاملے پر ریفرنڈم سے پہلے، آزاد خیال قوتوں اور طاقتور اخوان المسلمون کے بیچ تضاد اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مجوزہ آئین کی تحریر اسلام پسندوں کو قانون سازی پر اثر انداز ہونے کی چھوٹ دیتی ہے۔

ریفرینڈم میں پولنگ کا آغاز سنیچر کو صبح آٹھ بجے قاہرہ، اسکندریہ اور دیگر آٹھ صوبوں میں ہوگا۔ ملک کے دیگر علاقوں میں پولنگ ایک ہفتے بعد ہوگی۔

اس ریفرینڈم کو کئی روز کی مدت پر اس لیے پھیلایا گیا ہے کیونکہ اس کی نگرانی کرنے کے لیے تیار ججوں کی تعداد بہت کم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔