جاپان عام انتخابات کے لیے تیار

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 دسمبر 2012 ,‭ 18:17 GMT 23:17 PST
وزیر اعظم یوشیکو نودا اور شینز ایبی

وزیر اعظم یوشیکو نودا اور شینز ایبی ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔

جاپان اتوار کو عام انتخابات کے لیے تیار ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ملک میں نئی حکومت آئے گی۔

جاپان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ جاپان کی ڈیموکریٹک پارٹی (ڈی پی جے) کو صرف تین سال کی مدت کے بعد ہی حکومت سے باہر کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو ایبی ایک بار پھر سے ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونگے۔

جاپان میں سیاست کے تعلق سے ایک طرح کی عدم دلچسپی پائی جاتی ہے اور ایسے ہی ماحول میں بہت سے ووٹروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کسے ووٹ ڈالیں گے۔

اس وقت جاپان کے ووٹروں کے نزدیک سیلز ٹیکس، جوہری توانائی اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے مسئلے اہم ہیں۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے نواحی علاقے کے اکیاون سالہ شہری ہیروکو تاکاہاشی نے خبر رساں ایجنسی ایسو سی ایٹڈ پریس سے کہا کہ ’تمام امیدوار انتخابات سے قبل اسی طرح کے وعدے کرتے ہیں لیکن میرے خیال سے کوئی بھی ان کو پورا نہیں کرتے۔‘

انھوں نے کہا ’میں نئی پاٹیوں کے بارے میں پر امید ہوں لیکن میں کہہ نہیں سکتا کہ میں پرانی پارٹیوں میں سے کسی پر بھروسہ کر سکتا ہوں۔‘

جاپان کی پارٹیاں

  • ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان دو ہزار نو سے بر سر اقتدار ہے لیکن اسے ناتجربہ کار کہا جاتا ہے۔
  • لبرل ڈیموکریٹک پارٹی: اسے جاپان کی سب سے بڑی پارٹی کہا جاتا ہے اور اس نے جاپان پر نصف صدی تک حکومت کی ہے۔
  • جاپان ریسٹوریشن پارٹی: اسے دائیں بازو کے دو رہنماؤں کی قیادت حاصل ہے۔
  • ٹوماروپارٹی؛ اس کی قیادت شگھا کے گورنر کر رہے ہیں اور وہ جوہری پلیٹ فارم کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

دو ہزار نو کے گزشتہ انتخابات میں ڈی پی جے نے زبردست کامیابی حاصل کرکے برسر اقتدار آئی تھی اور اس نے قدامت پسند پارٹی ایل ڈی پی کے پچاس سال کے مسلسل اقتدار کو ختم کیا تھا۔

یہ پارٹی فلاحی کاموں میں زیادہ خرچ کرنے اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن عالمی معاشی بدحالی اور گیارہ مارچ دو ہزار گیارہ کے زلزلے اور سونامی کے سبب انہیں اپنا وعدہ پورا کرنے میں کافی جدوجہد کا سامنا رہا۔

واضح رہے کہ ڈی پی جے کو قیادت کا مسئلہ بھی درپیش رہا اور تین سال میں تین وزیر اعظم بدلے اور بالآخر یوشی ہیکو نودا وزیر اعظم بنے۔

سیلز ٹیکس دوگنا کرنے کے ان کے فیصلے کی وجہ سے ان کے ساتھ عوامی حمایت نہیں رہی حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے زبردست قرض سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری قدم ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جوہری توانائی کی بحث، جوہری ری ایکٹروں کو پھر سے شروع کرنے پر ان کے بدلتے موقف کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

جاپان کے سروے میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ دو ہزار چھ سات کے درمیان وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے والے شنزو ایبی جاپان کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔

جاپان کی اہم سیاسی جماعتوں میں ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان شامل ہے جو دو ہزار نو سے بر سر اقتدار ہے لیکن اسے ناتجربہ کار گنا جاتا ہے۔

دوسری اہم جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی ہے اور یہ جاپان کی سب سے بڑی پارٹی کہا جاتا ہے اور اس نے جاپان پر نصف صدی تک حکومت کی ہے۔

جاپان کی تیسری اہم پارٹی جاپان ریسٹوریشن پارٹی ہے جسے دائیں بازو کے دو رہنماؤں کی قیادت حاصل ہے۔

ٹوماروپارٹی کی قیادت شگھا کے گورنر کر رہے ہیں اور وہ جوہری پلیٹ فارم کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔