مصر میں ریفرنڈم کے بعد ووٹوں کی گنتی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 05:21 GMT 10:21 PST

مصر میں آئینی مسودے پر ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کیا جس ے بعد اب ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی اور ان کے مخالفین کی جانب سے برتری کے دعوے سامنے آئے ہیں مگر حتمی نتائج کے سامنے آنے تک صورتحال واضح نہیں ہے۔

حتمی نتائج ایک دوسرے ووٹنگ کے دور تک سامنے نہیں آئیں گے جو کہ اگلے سنیچر کو ہو گا۔

سنیچر کو ہونے والی ووٹنگ میں کئی پر تشدد واقعات ہوئے جن میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے صدر مرسی کی جماعت کے حامیوں پر تشدد کے الزامات عائد کیے۔

حزب اختلاف کی جماعت الوفد حامیوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے صدر دفتر پر اسلام پسندوں نے پٹرول بموں سے حملہ کیا جبکہ قاہرہ میں ایک حملے کے دوران دو لوگ زخمی بھی ہوئے۔

آئین کے اس مسودے کو مصری صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین ملک کا آئین بنانا چاہتی ہے جبکہ حزب اختلاف کا موقف ہے کہ اس مسودے کو اچھی طرح سے تیار نہیں کیا گیا ہے اور یہ اسلام پسندوں کی جانب زیادہ مائل ہے۔

سنیچر کو ہونے والے اس ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں عوام کی بڑی تعداد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا مگر اس کا انعقاد ملک کے بعض حصوں میں ہوا۔

حزبِ اختلاف نیشنل سالویشن فرنٹ نے اخوان المسلمین پر ریفرنڈم میں دھاندلی کروانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

نیشنل سالویشن فرنٹ اس ریفرنڈم کی مخالفت کرتی رہی ہے لیکن اس ہفتے اس نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ریفرنڈم میں حصہ لے کر اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالیں۔

نیشنل سالویشن فرنٹ نے سنیچر کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انہیں ریفرنڈم میں ہونے والے بے قاعدگیوں پر خدشات ہیں۔واضح ہے کہ اخوان المسلمین ان بے قاعدگیوں کے ذریعے دھاندلی کروانے کی خواہش رکھتی ہے۔‘

تاہم مصری فوج کے چیف آف سٹاف جنرل سیدکی صبحی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر کے حالات سے مطمئن تھے۔

انہوں نے کہا کہ مصر میں جمہوریت کی شروعات ہیں لیکن مصر صحیح سمت میں جا رہا ہے۔

آئینی مسودے کی حمایت کرنے والوں نے الزام لگایا ہے کہ حزب اختلاف ریفرنڈم کے بارے میں جھوٹا پروپیگینڈہ کر رہا ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنا ووٹ قاہرہ میں ڈالا۔

پہلے دور کی ووٹنگ دارالحکومت قاہرہ، اسکندریہ، اور دیگر آٹھ صوبوں میں ہوئی۔جبکہ ملک کے باقی حصوں میں ووٹنگ ایک ہفتے بعد ہوگی۔
پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے ڈھائی لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیاگیا تھا۔

ریفرنڈم کا دوسرا مرحلہ اگلے سنیچر کو ہو گا جس کے بعد حتمی نتائج کا اعلان کیا جا سکے گا۔

ووٹروں نے رائٹر خبر رساں ادارے کو قاہرہ میں بتایا کہ وہ پر امید ہیں کہ اس ووٹنگ سے مصر میں استحکام آ جائے گا۔

احمد جندی نے کہا کہ’میں اس کو ایک مثبت اقدام سمجھتا ہوں جو ایک ایسی بنیاد فراہم کرے گا جس پر ہم آگے کام کر سکتے ہیں۔‘

اسکندریہ میں جہاں جمعے کو مخالف گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تھیں محمد اویس نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ میں ایک ایسے آئین کو قبول نہیں کر سکتا جس میں اقلیتوں، خواتین اور یہاں تک کے بچوں کے حقوق بہت محدود ہوں۔‘

مسودے کے ریفرنڈم پر پولنگ کے دائرے کو پہلے مرحلے میں محدود رکھاگيا کیونکہ بہت کم جج اس ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کے لیے راضی ہوئے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی نتائج دوسرے مرحلے کی ووٹروں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اس ریفرنڈم میں عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ وہ نئے آئین کے مسودے کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں کیونکہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے آئین کا ہونا ضروری ہے۔

مجوزہ ریفرنڈم سے پہلے ہی صدر مُرسی کے حامیوں اور مخالفین کی ریلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور منگل کو ہزاروں مظاہرین قاہرہ کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

گزشتہ ہفتے صدر مرسی نے بائیس نومبر کوجاری کیے جانے والے اس فرمان کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا جس کے ذریعے انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔