امریکہ: ہلاک ہونے والوں کی شناخت ہو گئی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 دسمبر 2012 ,‭ 16:30 GMT 21:30 PST

نیوٹاؤن میں بچوں نے موم بتیاں جلا کر ماتمی تقریب میں شرکت کی

مرنے والوں کی سرکاری فہرست کے مطابق امریکی ریاست کنیٹی کٹ کے سکول میں ہونے والے شوٹنگ میں ہلاک ہونے والے تمام 20 بچوں کی عمریں چھ سے سات برس کے درمیان تھیں۔

ریاست کے چیف میڈیکل ایگزامینر نے کہا کہ حملہ آور کا بنیادی ہتھیار ایک رائفل تھی، اور بظاہر تمام ہلاک شدگان کو متعدد بار گولیاں ماری گئی تھیں۔

میڈیا کے مطابق حملہ آور کا نام ایڈم لینزا تھا۔ اس نے سکول جا کر فائر کھولنے سے پہلے اپنی ماں کو ہلاک کیا تھا۔

حملہ آور نے حملے کے دوران چھ بالغوں، جو سب کی سب خواتین تھیں، کو بھی قتل کیا، اور اس کے بعد خودکشی کر لی۔

سکول کے ہیڈماسٹر بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

چار کو چھوڑ کر باقی ہلاک ہونے والے آٹھ لڑکوں اور بارہ لڑکیوں کی عمریں چھ برس تھیں۔ سب سے کم عمر بچے کا نام نووا پوزنر تھا اور اس نے اپنی سالگرہ گذشتہ مہینے منائی تھی۔

سکول میں کام کرنے والی صرف ایک خاتون ایسی تھی جسے گولیاں لگیں لیکن وہ بچ گئی۔

سکول کے باہر بیسیوں لوگوں نے پھول اور تعزیتی پیغامات چھوڑے ہیں، اور ہفتے کی رات سینکڑوں لوگوں نے موم بتیوں کی روشنی میں ہونے والی ماتمی تقریب میں شرکت کی۔

صدر براک اوباما اتوار کے روز سکول کا دورہ کر کے متاثرہ خاندانوں سے ملیں گے اور ایک ماتمی تقریب سے خطاب کریں گے۔

سمجھنے کی کوشش

"ہمارا خاندان اس واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے"

مشتبہ حملہ آور کے والد پیٹر لینزا

ہفتے کے روز کنیٹی کٹ ریاست کی پولیس کے لیفٹیننٹ پال وینس نے پہلے سامنے آنے والی رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور زبردستی سکول میں گھس آیا تھا۔

پولیس کے مطابق شوٹنگ دو کمروں میں ہوئی اور صرف چند منٹ جاری رہی۔

جب سکول کے دوسرے حصوں میں استادوں نے شوٹنگ کی آواز سنی تو انھوں نے بچوں کو بچانے کے لیے دروازے بند کر لیے اور بچوں کو الماریوں میں بند کر لیا۔

لائبریری کی کلرک میریان جیکب نے 18 بچوں کو ایک سٹور میں بند کر دیا اور دروازے کے پیچھے الماری رکھ دی۔

کنیٹی کٹ کے چیف میڈیکل ایگزامینر ایچ وائن کارور نے بتایا کہ حملہ آور نے ایک نیم خود کار رائفل سے فائرنگ کی۔

مشتبہ حملہ آور کے والد پیٹر لینزا نے کہا کہ ان کا خاندان ’اس واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے‘۔

ایک نرس نے بتایا ہے کہ پڑوسیوں نے کرسمس کی پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور وہ گھروں کے باہر سے کرسمس کے لیے لگائی گئی آرائشی بتیاں اور سجاوٹیں ہٹا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔