یوکرائن میں جج کے قتل کا معمہ

آخری وقت اشاعت:  پير 17 دسمبر 2012 ,‭ 17:47 GMT 22:47 PST

یوکرائن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ سٹرن کے مطابق جج کا قتل سنہ دو ہزار میں قتل ہونے والے صحافی جئیورجی گوناگزے کے قتل سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

یوکرائن میں پولیس حکام ایک جج اور ان کے خاندان کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کر رہی ہے۔

قتل کے اس واقعے میں یوکرائن کے مشرقی شہر خارکِف میں ایک جج ولادی میر تروفی موف کے گھر سے ان کی اہلیہ، بیٹے اور اس کی گرل فرینڈ کی سر بریدہ لاشیں ملیں، ہلاک ہونے والوں میں جج بھی شامل تھے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں اتوار کو یوکرائن کے وزیرِ داخلہ اور سرکاری وکیل استغاثہ خارکِف پہنچے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل میں ملوث افراد کا تعلق جج کے کام یا اُن کے قیمتی نوادرات کے مجموعوں سے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اُن کے قیمتی مجموعوں میں سے بعض نوادرات غائب ہیں۔

اٹھاون سالہ جج قیمتی سکے جمع کیا کرتے تھے اور ان کے پاس نادر سکوں کا مجموعہ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے نوادررت میں دوسری جنگ عظیم کے بعض تمغے میں شامل ہیں۔

اس واقع میں ہلاک ہونے والوں میں جج کی اہلیہ ارینا جن کی عمر انسٹھ سال تھی، ان کا تیس سالہ بیٹا سرگئی اور ان کی گرل فرینڈ مرینا زؤوا شامل تھے۔

یوکرائن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ سٹرن کے مطابق یہ قتل سنہ دو ہزار میں قتل ہونے والے صحافی جئیورجی گوناگزے کے قتل سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔

صحافی جئیورجی گوناگزے حکومت کے ناقدین میں سے تھے اور جن کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کی سربریدہ لاش دارالحکومت کئیو کے مضافات سے ملی تھی۔

جئیورجی گوناگزےکے قتل کا مقدمہ گزشتہ سال سے عدالت میں چل رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔