فرعون رعمیسس سوئم کا سر قلم کیا گیا تھا

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 17:38 GMT 22:38 PST

ماہرین نے ایک نئے فورینزک جائزے کے بعد بتایا ہے کہ مصر کے فرعون رعمیسس سوئم کا سازشیوں نے سر قلم کر دیا تھا۔

فرعون کی لاش کے پہلے سی ٹی سکین سے پتا چلا ہے کہ ان کی گردن پر گہرا زخم ہے جو جان لیوا ہو سکتا تھا۔

تحقیق سے حاصل ہونے والی تمام معلومات برٹش میڈیکل جرنل میں شائع کی گئی ہیں۔

یہ راز اس وقت سامنے آیا جب فرعون کی حنوط شدہ ممی کی گردن پر سے پٹی ہٹائی گئی جسے اب تک ممی کی حالت کے پیش نظر ہاتھ نہیں لگایا گیا تھا۔

اس سے پہلے رعمیسس سوئم کی ہلاکت کی معین وجہ معلوم نہیں تھی اور اس پر بحث اب تک جاری رہی ہے جس کے بارے میں اب امید ہے کہ پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے گا۔

قدیم دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ رعمیسس سوئم کے حرم کے افراد نے انہیں محل میں برپا ہونے والی ایک بغاوت کے دوران قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس بارے میں کچھ واضح نہیں ہے کہ کیا یہ بغاوت کامیاب تھی یا نہیں کیونکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب تھی اور کچھ کے مطابق فرعونوں کے بیسویں خاندان کے دوسرے فرعون اس حملے سے بچ گئے تھے اگرچہ مختصر مدت کے لیے۔

"اب سے پہلے ہمیں رعمیسس سوئم کے بارے میں کچھ زیادہ پتا نہیں تھا۔ ان کی ممی کا پہلے کئی بار جائزہ لیا گیا تھا اور اس کے ریڈیو گرافس بھی کیے گئے لیکن ان سے ممی پر کسی قسم کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا تھا۔ انہیں اس قسم کے سی ٹی سکین تک رسائی نہیں تھی جیسی ہمیں ہے۔"

اٹلی کے انسٹیٹیوٹ برائے ممیز اور آئس مین کے ڈاکٹر البرٹ زنک

اس دور کے قدیم عدالتی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ چار افراد کو مختلف عدالتی کارروائیوں میں سزا سنائی گئی تھی جن میں سے فرعون کی دو بیویاں بھی شامل تھیں۔ ان میں ایک بیوی کا نام تائی اور ان کے بیٹے شہزادہ پینتاوِر بھی شامل تھے جو ممکنہ ولی عہد بھی تھے۔

یہ بتایا جاتا ہے کہ رعمیسس سوئم کے کئی بیٹوں میں سے ایک پینتاوِر جو کہ اس بغاوت میں شامل تھے اور انہیں عدالت نے اس میں مجرم پایا جس کے بعد انہوں نے خود کشی کر لی۔

اس بارے میں اٹلی میں قائم انسٹیٹیوٹ برائے ممیز اور آئس مین کے ڈاکٹر البرٹ زنک نے مزید تحقیقات کیں جنہوں نے رعمیسس سوئم کی ممی کا جائزہ لیا۔

ڈاکٹر البرٹ زنک نے اس کے علاوہ ایک اور نامعلوم ممی کا بھی جائزہ لیا جو مصر میں بادشاہوں کی وادی کے علاقے میں سے ملی تھی اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ شہزادہ پینتاوِر کی تھی۔

یہ تمام ممیاں قاہرہ کے عجائب گھر میں رکھی گئی ہیں جہاں ان کا سی ٹی سکین اور ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا۔

رعمیسس کے سی ٹی سکین سے پتا چلا کہ ان کی گردن پر دو اعشاریہ سات انچ کا گھاؤ تھا جو ماہرین کے مطابق ایک تیز دھار آلے سے لگایا گیا تھا جس سے فوری ہلاکت ہو سکتی تھی۔

ڈاکٹر البرٹ زنک نے کہا کہ ’اب سے پہلے ہمیں رعمیسس سوئم کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں پتا تھا ان کی ممی کا پہلے کئی بار جائزہ لیا گیا تھا اور اس کے ریڈیو گرافس بھی کیے گئے لیکن ان سے کسی قسم کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا تھا۔ انہیں اس قسم کے سی ٹی سکین تک رسائی نہیں تھی جیسی ہمیں ہے۔‘

ڈاکٹر البرٹ زنک نے کہاکہ انہیں بڑی حیرت ہوئی یہ جان کر مگر اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ان زخموں سے ان کی ہلاکت ہوئی مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہو گا۔ اسی طرح ان کے زخم میں ایک تعویز کے بھی آثار ملے جو شاید زخموں کو مندمل کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

اسی طرح جس نامعلوم نوجوان کی لاش کا ڈی این اے ہوا اس کی عمر اٹھارہ سال کے قریب تھی اور وہ رعمیسس سوئم کا حقیقی رشتہ دار تھا اور تمام ممکنات کو اگر سامنے رکھا جائے تو وہ فرعون کا بیٹا شہزادہ پینتاوِر ہی ہے۔

ڈاکٹر البرٹ زنک کا کہنا ہے کہ ’ہمارے جینیاتی تجزیے سے یہ لازمی ثابت کیا جا سکتا ہے کہ دونوں قریبی رشتہ دار تھے۔ دونوں ایک ہی ’وائے‘ کروموسوم شئیر کرتے تھے اور دونوں کا جینیاتی مادہ ایسا ہی تھا جیسا کہ ایک باپ بیٹے کا ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر البرٹ زنک نے کہا کہ اس نوجوان کے جسم کا سینہ پھول چکا تھا اور ان کی جلد بہت دباؤ کا شکار تھی جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ یہ وفات کے بعد بھی ہو سکتا تھا مگر اس کی یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ انہیں گلا دبا کر ہلاک کیا گیا ہو۔

ڈاکٹر البرٹ زنک نے کہا کہ اس کی ممی کو ایک شاہی خاندان کے فرد کی ممی کی نسبت بہت برے طریقے سے دفن کیا گیا تھا جس سے یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ انہیں ایک سزا کے طور پر دفن کیا گیا ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔