افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 02:19 GMT 07:19 PST

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بارہ سال میں پہلی بار افغان حکام اور طالبان سمیت افغانستان میں سرگرم مختلف دھڑوں کے درمیان بات چیت کا آغاز جمعرات سے ہو رہا ہے۔

اس بات چیت کا اہتمام فرانس کے تھنک ٹینک سٹریٹیجک ریسرچ فاؤنڈیشن نے فرانسیسی وزارت دفاع اور وزارتِ خارجہ کی ایما پر کیا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان گروہوں، افغان دھڑوں اور افغان حکام کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔

کلِک اٹھارہ طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق

کلِک پاکستان نے تیرہ افغان طالبان رہا کردیے

کلِک افغان امن: پاکستانی فوج کی پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی

تاہم ان مذاکرات کے بارے میں پہلے ہی سارے شرکاء کہہ چکے ہیں کہ نہ تو یہ امن بات چیت ہے اور نہ ہی سیاسی مذاکرات۔

اس بات چیت میں طالبان کی نمائندگی قطر میں ان کے سیاسی دفتر کے سینیئر ممبران شہاب الدین دلاور اور نعیم وردگ کر رہے ہیں۔ شہاب الدین دلاور طالبان حکومت کے پاکستان اور سعودی عرب میں سفیر تھے۔

ان کے علاوہ گلبدین حکمت یار کی حزبِ اسلامی کی جانب سے غیرت بہیر پیرس پہنچے ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے صدر حامد کرزئی کے مشیر حاجی دین محمد اور امن کونسل کے سینیئر ممبر معصوم سٹنکزئی کی شرکت متوقع ہے۔

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ اس بات چیت کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے۔ ان کے مطابق یہ باقاعدہ مذاکرات نہیں بلکہ ایک آزاد بحث میں فریقین مسئلے کے حل کے لیے اپنے موقف بیان کریں گے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات چیت کا افغانستان کی صورتحال پر یقیناً اثر پڑے گا کیونکہ یہ بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ سب دھڑے اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ افغانستان میں مسئلے کا حل جنگ نہیں اور یہ کانفرنس ایک طویل سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔

کون شرکت کر رہا ہے

طالبان: شہاب الدین دلاور اور نعیم وردگ

افغانستان حکومت: حاجی محمد دین اورمعصوم سٹنکزئی

حزبِ اسلامی: گلبدین حکمت یار کے داماد غیرت بہیر

نیشنل فرنٹ: احمد ضیاء مسعود اور محمد محقق

نیشنل الائنس: یونس قانونی اور عبداللہ عبداللہ (تصدیق نہیں ہوئی)

دیگر:

پاکستان میں سابق سفیر عبدالسلام ضعیف

ازبک عالم اور افغانستان کی سول سوسائٹی، انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے نمائندے عبدالستار سیرت

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں شرکاء 2014 میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے مستقبل پر بات چیت کریں گے۔

تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے ’ان مذاکرات کا مقصد ہے کہ بند کمرے میں ان شرکاء کو کھل کر بات کرنے دی جائے۔‘

تاہم طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے شرکاء اس اجلاس سے صرف خطاب کریں گے۔ چونکہ یہ اجلاس ایک سائنسی اور تحقیقاتی نوعیت کا ہے اس لیے اس میں نہ تو معاہدے ہوں گے اور نہ ہی افغانستان پر قابض فوج کے ساتھ بات چیت ہو گی اور نہ ہی کابل انتظامیہ کے ساتھ۔‘

طالبان کے اس بیان میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ آیا طالبان نیشنل فرنٹ کے ساتھ بات چیت کرے گی یا نہیں۔

واضح رہے کہ نیشنل فرنٹ میں احمد ضیاء مسعود، محمد محقق اور جنرل دوستم جیسے شمالی اتحاد کے سابق ارکان شامل ہیں اور اس بات چیت میں پہلی بار طالبان اور شمالی اتحاد کے نمائندے آمنے سامنے ہوں گے۔

فرانس کے تھنک ٹینک سٹریٹیجک ریسرچ فاؤنڈیشن نے پہلے بھی دو بار کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں افغان دھڑوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم یہ پہلا موقع ہو گا کہ طالبان کے نمائندے اپنے مخالفین سے بند کمرے میں ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔