عراق: صدر جلال طالبانی کی صحت میں بہتری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 12:12 GMT 17:12 PST

اناسی سالہ جلال طلبانی عراق کے پہلے صدر ہیں جن کا تعلق کُرد لسانی گروہ سے ہے۔

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے صدر جلال طالبانی کی صحت میں بہتری آ رہی ہے۔

صدر جلال طالبانی کو دو روز قبل دل کا دورہ پڑا تھا اور ان کا بغداد کے سرکاری ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔

ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی ٹیم کے رابطہ کار نجم الدین کریم نے خبر رساں ادارہ رائٹرز کو بتایا کہ’ ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اور صحت یابی کے آثار بہت نمایاں ہیں‘۔

صدر جلال طالبانی کا تعلق کرد علاقے سے ہے اور منگل کو کرد ذر‏ائع سے پتہ چلا تھا کہ وہ کومہ میں ہیں۔

اناسی سالہ جلال طالبانی علحیدہ ریاست کردستان کے لیے چھاپہ مار تحریک کے لیے جانے جاتے تھے جو کرد گروپ سے ملک کے لیے پہلے صدر ہیں۔

اس وقت دارالحکومت بغداد کے میڈیکل سٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ہسپتال کی حفاظت بھی صدر کے مخصوص گارڈز کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نوری مالکی نے منگل کو ہسپتال میں ان کی عیادت کی تھی۔

گزشتہ چند برسوں میں ان کی صحت خراب رہی ہے اور بیشتر اوقات ان کا علاج بیرونی ممالک میں ہوا ہے۔

دو ہزار آٹھ میں امریکہ میں ان کے قلب کی سرجری ہوئي تھی۔ اس سے پہلے بھی تھکاوٹ اور ڈی ہائیڈریشن کے لیے انہیں اردن لے جایا گيا تھا۔

جلال طالبانی کرد علاقے کی خود مختاری کے لیے جد و جہد کرتے رہے تھے۔ اسی وجہ سے عراقی حکومت اور بعض کرد گروپوں سے سے بھی ان کا ٹکراؤ رہا اور سابق صدر صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے تک انہیں جلاوطن بھی رہنا پڑا۔

دو ہزار تین میں امریکی حملے کے بعد حکومت سازی کا جو عمل شروع ہوا اس میں وہ کھل کر سامنے آئے اور مختلف مذہبی یا نسلی گروپوں میں ثالثي کا کردار ادا کیا۔

حال ہی میں انھوں نے کُردوں کے زیر تسلط سرحدی علاقے میں عراقی حکومت اور کُردوں کے مابین متنازعہ علاقوں کے حوالے سے ایک معاہدہ کروانے میں معاونت بھی کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔