امریکی روس سے بچے گود نہیں لے سکیں گے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 16:01 GMT 21:01 PST

صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایک سویت اور روس مخالف قانون کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا بنا لیا ہے جو کہ ہمارے تعلقات کے لیے بہت نقصان دے ہے

روسی صدر ولادمیر پوتن نے روسی پارلیمان کی جانب سے تجویز کردہ ایک بل کی حمایت کی ہے جس سے تحت امریکی شہریوں کا روسی بچوں کو گود لینا ممنوع ہو جائے گا۔

امریکہ میں میگنٹسکی ایکٹ کے ردِ عمل کے طور پر آنے والے اس بل کے بارے میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ یہ ’موزوں‘ ہے۔ میگنٹسکی ایکٹ کےتحت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مبینہ طور پر ملوث روسی شہریوں کو امریکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ولادمیر پوتن نے کہا کہ روسی اہلکاروں کو گود لیے گئے ان بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے کیسز میں شرکت نہیں کرنے دی جاتی۔

ایک انتہائی لمبی پریس کانفرنس میں روسی صدر نے شام کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے سابق سویت ریاستوں یوکرین اور جورجیا کے ساتھ روابط کا بھی ذکر کیا۔ روسی صدر کی صحت کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کو بھی انھوں نے ختم کرنے کی کوشش کی۔

گود لیےگئے روسی بچوں کی اپنے امریکی والدین کے ہاتھوں بدسلوکی کے واقعات سے متعلق متعدد کیسز روس میں ذرائع ابلاغ کی شہہ سرخیوں میں رہے ہیں۔

صدر پوتن نے کہا کہ انھیں ابھی مجوزہ بل کا تفصیل سے مطالعہ کرنا ہے تاہم نظریاتی طور پر وہ اس کے حامی ہیں۔

روس میں بچوں کو گود لینے کی شرح انتہائی کم ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں تین ہزار چار سو بچوں کو غیر ملکیوں نے گود لیا جن میں سے تقریباً ایک تہائی امریکی شہری ہیں۔

صدر پوتن نے کہا کہ ملک کے پارلیمان کا جواب شاید زیادہ جذباتی تھا مگر میرے خیال میں یہ موزوں ہے۔

انھوں نے میگنٹسکی ایکٹ کو ’غیر دوستانہ‘ اقدام کہا۔ اس ایکٹ سے پہلے سرد جنگ کے عرصے میں بنائی گئی جیکسن وانیک ترمیم اس معاملے میں قانون تھی۔

صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایک سوویت اور روس مخالف قانون کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا بنا لیا ہے جو کہ ہمارے تعلقات کے لیے بہت نقصان دے ہے۔

گوتانامو اور ابو غریئب میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کا حوالہ دیتے ہویِ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو ابھی انسانی حقوق کی اپنی خلاف ورزیوں کو حل کرنا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ پر بات کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا کہ روس کے شام میں کوئی عملی مفادات نہیں ہیں مگر ان کا ملک یہ نہیں چاہتا کہ لیبیا میں کی جانے والی غلطیوں کو دہرایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ان غلھیوں کے نتیجے میں لیبیا بکھر رہا ہے۔

سنہ دو ہزار گیارہ میں لیبیا کے باغیوں نے مغربی ممالک کے فضائی حملوں کی مدد سے کرنل قذافی کی حکومت کو گرایا تھا۔ لیبیا کی مہم اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت چلائی گئی تھی تاہم شامی صدر بشارالاسد کے روایتی حامی روس نے شام کے خلاف لیبیا جیسی قرارداد منظور ہونے نہیں دی ہے۔

صدر پوتن کا موقف ہے کہ شامی عوام کو خود اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے اور بیرونی عسکری مداخلت درست راستہ نہیں ہے۔

ادھر ساٹھ سالہ صدر پوتن نے اپنی صحت کے بارے میں میڈیا میں چلنے والی رپورٹوں کو بھی رد کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس سوال کا روایتی جواب دوں گا اور کہاں گا کہ لوگ یہ خواب دیکھتے رہیں۔

گذشتہ ماہ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق صدر کی کمر میں تکلیف تھی۔

صدر نے اپنے اندازِ حکومت کے بارے میں اس الزام کو بھی رد کیا کہ وہ آمرانہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی طرزِ حکومت پسند کرتے تو وہ ملک کا آئین تبدیل کرواتے کیونکہ ایسا کرنا زیادہ مشکل نہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔