امریکہ: بینر منصوبے پر ووٹنگ منسوخ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 08:47 GMT 13:47 PST
جان بینر

جان بینر نے سینٹ کو اس پر عمل کرنے کے لیے کہا ہے

امریکہ میں ری پبلکن جماعت نے ایک ایسے وقت میں ایوانِ نمائندگان میں ٹیکسوں کی شرح کے معاملے پر ووٹنگ اس وقت منسوخ کر دی ہے جب ملک میں خودکار نظام کے تحت ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کے سلسلہ وار نفاذ میں دو ہفتے سے بھی کم وقت بچا ہے۔

ایوان نمائندگان کے سپیکر اور ری پبلکن پارٹی کے قائد جان بینر نے اس بل میں سالانہ دس لاکھ ڈالر سے زیادہ کمانے والوں کے ٹیکس میں اضافے کی تجویز دی تھی لیکن ان کی جماعت کے ارکان نے اسے مسترد کر دیا۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس سے جان بینر کی وائٹ ہاؤس سے بات چیت کرنے کی حیثیت کمزور ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی سیاست دانوں کو یکم جنوری سنہ دو ہزار تیرہ تک مالی منصوبے پر کسی سمجھوتے پر پہنچنا ہو گا ورنہ نہ صرف ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی اخراجات میں بھی زبردست کٹوتی کی جائے گی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس مالی تعطل سے اگر جلد نہ نکلا گیا تو امریکی معیشت کو مندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بینر نے کہا کہ وہ اپنے مجوزہ بل کے حق میں اتنے ووٹ اکٹھا کرنے میں ناکام رہے جس کے ذریعے وہ اس بل کو منظور کروا سکیں۔

اس بل کے تحت ننانوے اعشاریہ آٹھ فیصد امریکیوں کے ٹیکس میں کٹوتی تو یقینی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی دس لاکھ امریکی ڈالر سالانہ کمانے والوں کے ٹیکس میں اضافہ ہوجاتا۔

انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’بل کو منظوری کے لیے ان کی جماعت کے اراکین کی جانب سے خاطر خواہ حمایت نہیں مل سکی ہے‘۔

اس کے بعد فوری طور پر وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر براک اوباما کانگریس کے ساتھ مل کر اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’بہت جلد دونوں جماعتوں کی رضامندی والے حل کی امید کی جا رہی ہے‘۔

واضح رہے کہ کانگریس میں ری پبلکنز کی اکثریت ہے لیکن سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری ہے، اس لیے بینر کے منصوبے کو وہاں سے منظوری ملنے کی کوئی امید نہیں تھی۔

بہرحال تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ کہ دراصل اس بل کا مقصد امریکی عوام کو یہ باور کرانا تھا کہ اگر کسی حل تک نہیں پہنچا جا سکا تو اس کے لیے ری پبلکن ذمہ دار نہیں ہیں۔

لیکن چند تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینر کی ناکامی سے وائٹ ہاؤس کو تقویت ملی ہے۔

بہر حال وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ بینر کا منصوبہ ’بےکار کی مشقت تھی وہ بھی ایسے حالات میں جب ہمارے پاس ایسی بےکار کی کوششوں کی گنجائش نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔