چین میں پرتعیش فوجی دعوتوں پر پابندی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 دسمبر 2012 ,‭ 08:24 GMT 13:24 PST

چین کے نو منتخب صدر شی جن پنگ نے حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس طرح کے پر تعیش طور طریقے جاری رکھے گئے تو ملک میں بدامنی پھیلے گی۔

چینی حکومت نے سرکاری خرچ پر اعلیٰ فوجی افسران کے لیے پر تعیش دعوتوں کے اہتمام پر پابندی لگا دی ہے۔

سرکاری میڈیا نے خبر دی ہے کہ یہ اقدام ملک میں پر تعیش اندازِ زندگی اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی ختم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ژن ہوا نے خبر دی ہے کہ اعلیٰ فوجی حکام کے لیے دی جانے والی دعوتوں میں پرتعیش اشیا اور شراب سے آئندہ سے نہیں ہوں گی۔

اس حکم نامے کے بعد ایسا ہی ایک حکم نامہ سولین حکام کے لیے بھی جاری کیا جا رہا ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے، جس میں اعلیٰ فوجی اور سول حکام بیٹھتے ہیں، آٹھ ایسے نکات اٹھائے جن کے ضمن میں افسران کو اپنے طور طریقے بدلنے ہوں گے۔

اس کے علاوہ فوج نے بھی خوش آمدی بینروں، سرخ قالینوں اور پھولوں کی آرائش اور تحفے تحائف کے لین دین پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

اب معائنے کی غرض سے دورے پر گئے ہوئے افسران کو پرتعیش ہوٹلوں میں رکنے کی اجازت نہیں ہو گی، اور نہ ہی مہنگی گاڑیاں استعمال کرنے کی اجازت ہو گی جبکہ سائرنوں کا بے جا استعمال بھی نہیں کیا جائے گا۔

اسی خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی اپنے بیویوں اور بچوں کو نظم و ضبط میں لائیں گے اور انہیں رشوتیں لینے سے روکیں گے۔

بیجنگ شہر کی انتظامیہ نے ان اقدامات کو پہلے سے ہی لاگو کرنا شروع کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ چین کے نو منتخب صدر شی جن پنگ نے حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس طرح کے پر تعیش طور طریقے جاری رکھے گئے تو ملک میں بدامنی پھیلے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔