کیا افغانستان خود کفیل ہو پائےگا؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 دسمبر 2012 ,‭ 17:10 GMT 22:10 PST

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فوجوں کا انخلاء ان منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے

توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی تین بین الاقوامی کمپنیوں کو شمالی افغانستان میں تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے چنا لیا گیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے ان ذخائر کے ذریعے ملک کا بیرونی امداد پر انحصار کم ہو جائے گا۔ بی بی سی نے نمائندوں نے افغانستان کے تین دیگر صنعتی مقامات پر جا کر اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی کہ کیا یہ امیدیں جائز بھی ہیں یا نہیں۔

کچھ اندازوں کے مطابق افغانستان میں تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ دیگر قیمتی معدنیات کو ملا کل قیمت کم از کم ایک کھرب ڈالر ہوگی۔

مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار چودہ میں غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے ساتھ ہی سکیورٹی کی صورتحال اور بدعنوانی کے مسائل ان منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

غوری سیمنٹ فیکٹری

ستر کی دہائی میں شمالی صوبہ بغلان کی غوری سیمنٹ ورکس افغانستان کی کامیاب ترین کمپنیوں میں سے ایک تھی جہاں سینکڑوں ملازمین بہترین معیار کا ہزاروں ٹن سیمنٹ سویت یونین برآمد کرنے کے لیے تیار کرتے تھے۔

تیس سال کی خانہ جنگی نے پلانٹ کو بہت نقصان پہنچایا مگر اس کے نئے مالکان ملک میں جاری تعمیراتی رجحان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پلانٹ کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں۔

پلانٹ کے مینجر اسلام الدین احمدی بتاتے ہیں کہ یہاں پچاس سال پرانی سویت مشینری ابھی بھی کام کر رہی ہے اور عمر رسیدہ اور زنگ آلودہ اس پلانٹ میں روسی زبان میں درج کئی سائن بورڈ بھی ملتے ہیں۔ تاہم بنیادی ڈھانچے کی عدم موجودگی اس پلانٹ کی ترقی میں حائل رکاوٹ ہے۔

اسلام الدین احمدی کہتے ہیں کہ ’ہمارے سیمنٹ کی بہت طلب ہے مگر ہم تب تک اپنی پیداوار نہیں بڑھا سکتے جب تک ہم اپنے تونائی کے مسائل حل نہ کر لیں۔‘

مگر پھر بھی پلانٹ اپنی پیداواری صلاحیت سے کہیں کم پر کام کر رہا ہے اور اپنے ملازمین کو انتہائی کم تنخواہیں دے رہا ہے جس پر مقامی سطح پر بہت مایوسی ہے۔پلانٹ کے تقریباً چھ سو ملازمین کا اصرار ہے کہ ان کی تنخواہیں ناکافی ہیں۔

اس مایوسی میں اضافے کی ایک اور وجہ یہ تاثر بھی ہے کہ جہاں پلانٹ کے مزدور غربت میں زندگی گزار رہے ہیں وہیں کوئی اس پلانٹ سے مناقع کما رہا ہے۔

اینک تانبہ کان

رائے عامہ کے مطابق افغان معیشت کو بدل کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھنے والے ایک اور معاہدے کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں جس کا تعلق کابل کے قریب لوگار صوبے میں اینک کے مقام پر تانبے کی کانوں کے سلسلے میں دی گئی مراعات سے ہے۔

سنہ دو ہزار سات میں ایک چینی کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا تھا تاہم ٹھیکے کی تفصیلات کو منظرِ عام پر نہیں لایا گیا جس کے بعد رشوت خوری کی افواہیں پھیلنے لگیں۔

تنظیم گوبل وٹنس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے متعلق رازداری مستقبل میں اس منصوبے کے لیے نقصان دے ہو سکتی ہے۔

تنظیم کے مطابق مقامی برادری اسے خفیہ معاہدہ تصور کرتی ہے جو کہ بے اعتمادی اور ممکنہ طور پر فسادات کی وجہ بن سکتی ہے۔

تاہم افغان حکام اس بات کے بارے میں پرعزم میں کہ افغانستان ان کانوں سے چالیس کروڑ ڈالر اور ہزاروں ملازمتوں کا فائدہ اٹھائے گا۔

آمو دریائی علاقہ

ملک کے شمال میں واقع امو ریور بیسن (دریائی علاقہ) میں ممکنہ تیل کے ذخائر دریافت کرنے میں بھی چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

منصوبے کے معاہدے کے تحت پہلے تین سالوں میں خام تیل کو تیار کرنے کے لیے برآمد کیا جائےگا مگر شرائط کے مطابق ایک مقامی ریفائنری کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ چین نے جائے وقوع سے ایک سڑک بنانے کی بھی حامی بھری ہے۔

مقامی گورنر عبد الجبار حقبین کا کہنا ہے کہ چین اس خطے کو بہتری کی طرف لے جا سکتا ہے اور ان کی پرامیدی مقامی لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔

ایک مقامی تاجر محمد حسن کا خیال ہے کہ انھیں اس سے بجلی اور خطے کے نوجوانوں کے لیے نوکریاں ملیں گی۔

مگر اینک اور غوری کی طرح اس منصوبے کے معاہدے کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اس دفعہ ٹھیکے حاصل کرنے والی چینی کمپنیوں کی کامیابی کے لائحہِ عمل کے بارے میں شکوک تھے۔

ان الزامات کے پیشِ نظر سنہ دو ہزار گیارہ میں افغان حکومت نے ایک آزاد احتساب کروایا جس سے کسی بھی بدعنونی کی شکایت نہیں ملی۔

افغانستان کے معاملے پر ایک امریکی ماہر اینتھونی کورڈزمن کہتے ہیں کہ اگر یہ ملک اپنی اقتصادی قابلیت کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو انھیں ایک مضبوط قائد کی ضرورت ہے جو کہ ملک میں امن لا سکے اور اصلاحات جن کی اشد ضرورت ہے، کو متعارف کروا سکے ورنہ ایک کھرب ڈالر کے منافعوں کی بات کرنا بے سود ہے۔

کیا افغانستان اپنی اقتصادی ترقی کا بوجھ اٹھا سکتا ہے یا یہ سب کرنے کے لیے درکار ذخائر موجود ہوں گے۔۔۔ اس کا تو جواب مثبت ہی معلوم ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔