’حملہ آور خاتون اہلکار ایرانی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 دسمبر 2012 ,‭ 16:17 GMT 21:17 PST

نرجس کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُن کے تین بچے ہیں اور ذہنی توازن صحیح نہیں ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی جس خاتون اہلکار نے گزشتہ روز کابل میں ایک امریکی مشیر کو ہلاک کر دیا تھا وہ دراصل ایرانی شہری ہیں۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق اِس خاتون کے گھر سے ایرانی پاسپورٹ اور ایرانی شناختی کارڈ برآمد کر لیا گیا ہے۔ ’ہماری تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ نرگس ایک ایرانی شہری ہیں جنہوں نے ایک افغان شخص سے شادی کی اور غیر قانونی طور افغان شناختی کارڈ بنوا کر پولیس میں ملازمت حاصل کی تھی۔‘

نرگس کے شوہر کریمنل انوسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں۔

دارالحکومت کابل میں حکام نے بتایا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے انتہائی محفوظ ہیڈکوارٹر میں یہ خاتون پولیس اہلکار پولیس کے سربراہ یا کابل کے گورنر سے ملاقات کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن جب وہ اِس میں کامیاب نہ ہو سکیں تو انہوں نے کینٹین میں جا کر امریکی شہری کو اپنی پستول سے گولی مار دی۔ خاتون نے اُن اہلکاروں پر بھی فائرنگ کی جو انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ہلاک ہونے والے امریکی شہری افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے ساتھ مشیر کے طور پر کام کرتے تھے۔

اِس خاتون کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اِن کے تین بچے ہیں اور اِن کا ذہنی توازن صحیح نہیں ہے۔

تفتیش کار اِن کے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعلقات کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

اِس واقعے کو حکومت کی اُس پالیسی کے لیے ایک دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے جس کے تحت سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

افغانستان کے شمال میں اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں ایک اہلکار نے چھ مقامی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

افغان پولیس میں کسی بھی خاتون کی جانب سے غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ بتایا جاتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے غیر ملکیوں اور اپنے ساتھیوں کو مارنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان میں موجود نیٹو کے تربیتی مشن افغان سکیورٹی فورسز اور غیر ملکی افواج کے مابین اعتماد سازی اور گہرے روابط کے لیے کام کریں گے۔ لیکن اب یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ دونوں کے درمیان گہرے روابط کس حد تک ممکن ہیں۔

غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کی حکمت عملی میں افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ افغانستان میں مقامی پولیس میں دیہی علاقوں سے اہلکار بھرتی کیے جاتے ہیں جن میں اکثر سابق عسکریت پسند بھی ہوتے ہیں۔

ستمبر میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد امریکہ نے مقامی پولیس اہلکاروں کی تربیت معطل کر دی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وہ پولیس میں بھرتی کیے جانے والے اہلکاروں کے طالبان سے ممکنہ روابط کا پتہ لگائیں گے۔

رواں سال کے آغاز سے اب تک افغانستان میں مقامی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس سے زائد غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔