مغرب بعد از الاسد شام کے لیے تیار نہیں

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 دسمبر 2012 ,‭ 15:09 GMT 20:09 PST

’جباۃ النصرہ بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی ہتھیار پھینکنے کو تیار نہیں‘

شام میں صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے قابلِ اعتبار عالمی منصوبے کی تیاری کے لیے وقت نکلتا جا رہا ہے۔

اگرچہ یہ دن آنے میں بظاہر ابھی کچھ وقت ہے اور شامی صدر اپنی فوری شکست کی تمام پیشنگوئیوں کو ناکام بنا چکے ہیں لیکن حالات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ صدر بشارالاسد کے بعد کے شام کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے منصوبوں کی تیاری میں مغرب کو بھی دقت کا سامنا ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ مائیک روجرز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگر کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں کوئی منصوبہ نہ بنایا گیا تو وہ سارے خطے کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر انہیں لبنان منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں وہ ایسی تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جنہیں دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں مانتا ہوں کہ ہمیں ان ہتھیاروں کو فوری طور پر محفوظ کرنے کے لیے عرب لیگ، ترکی اور اپنے یورپی اتحادیوں سے مشاورت کے بعد ایک منصوبہ تیار کرنا ہوگا اور اس کے لیے ہمیں ابھی بہت کام کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایسا نہ ہوا تو خطے میں عدم توازن پیدا ہوگا جو سارے مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں کے استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے‘۔

مشرقِ وسطیٰ کے ملک میں کیمیائی ہتھیار؟ نامعلوم خفیہ ذرائع؟ ایک لحظہ رک کر سوچیں تو کیا یہ سب سنہ 2003 میں عراق میں ہم نہیں دیکھ چکے؟

یقیناً ایسا ہو چکا ہے لیکن شام اور عراق کے معاملات میں دو بنیادی فرق ہیں۔ بشار الاسد کی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی سے انکاری نہیں بلکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ انہیں اپنے عوام پر استعمال نہیں کرے گی۔

اور دوسری بات یہ کہ عراق کے برعکس جہاں بش انتظامیہ کارروائی کے لیے بےچین تھی، مغربی ممالک شام میں عسکری تنازع میں الجھنے سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شاید اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں پایا جانے والا یہ خیال بھی ہے کہ مغربی ممالک مسلم ممالک میں فوجی کارروائیوں کے لیے ہردم تیار رہتے ہیں۔ لیکن مغرب کی شامی تنازع میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کی وجہ سے الگ قسم کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم شامی صحافی ملک عبدہ کا کہنا ہے کہ شام میں عوام ملک میں امن عامہ کی صورتحال پر فکرمند ہیں لیکن اگر مغربی افواج شام میں داخل ہوئیں تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑےگا۔

"مغرب نے حکومت مخالف عناصر کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کیا ہے اس لیے حزبِ اختلاف کا خیال ہے کہ بشار الاسد کے جانے کے بعد مغرب کو مداخلت کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔۔۔لوگ اسے مغرب کی منافقت سمجھتے ہیں کہ ایک جانب امریکہ بشارالاسد کا زوال چاہتا ہے تو دوسری جانب ان سے لڑنے والوں کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے۔"

ملک عبدہ، شامی صحافی

ان کا کہنا ہے کہ ’مغرب نے حکومت مخالف عناصر کو ہتھیار فراہم کرنے سے انکار کیا ہے اس لیے حزبِ اختلاف کا خیال ہے کہ بشار الاسد کے جانے کے بعد مغرب کو مداخلت کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں‘۔

ملک عبدہ کے مطابق امریکہ کی جانب سے شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اور القاعدہ سے وابستہ گروہ جباۃ النصرہ کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے سے بھی حزبِ اختلاف میں منفی جذبات پیدا ہوئے ہیں۔

’لوگ اسے مغرب کی منافقت سمجھتے ہیں کہ ایک جانب امریکہ بشارالاسد کا زوال چاہتا ہے تو دوسری جانب ان سے لڑنے والوں کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے۔‘

تاحال بشار الاسد کے بعد شام کے بارے میں مغرب کی تیاریاں سفارتی سطح پر ہی دکھائی دیتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے برطانوی وزیرِ ممالک الیسٹر برٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ’قبل از وقت ہر ممکن تیاری کے لیے مختلف ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔‘

ٹم کراس ایک ایسے فرد ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے کسی ملک میں مرکزی حکومت کے سقوط کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہیں۔ برطانوی فوج کے اس جنرل کو دو ہزار تین میں عراق میں تعمیرِ نو کے لیے بھیجا گیا تھا۔

وہ شامی صدر بشار الاسد کے بھی مداح نہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ مغرب نے ان کی حکومت کو بہت جلد تنہا کر کے ایک سٹریٹجک غلطی کی ہے۔

شام کی بقا کا دارومدار بھی فوج پر ہی ہے: ملک عبدہ

’میرے خیال میں مغربی ممالک صورتحال سے صحیح طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہم نے بہت جلدی بشار الاسد کے خلاف بہت سخت رویہ اپنایا۔ ہم نے انہیں بہت پہلے کنارے سے لگا دیا اور اب ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

درحقیقت شام میں واقعات اتنی تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ مغرب کی تیاریاں ان کا ساتھ دینے میں ناکام ہیں۔ مثلاً جباۃ النصرہ بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی ہتھیار پھینکنے کو تیار نہیں۔

ملک عبدہ کا خیال ہے کہ صدر الاسد کو ہٹانے کا مشترکہ مقصد پورا ہونے کے بعد صرف ایک مضبوط مرکزی طاقت ہی شام کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچا سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مغرب، امریکہ اور برطانیہ ایک حد تک ہی شام کے حالات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔’بشار الاسد چلے بھی گئے تو شام میں پانچ برس تک عدم استحکام ہی ہوگا‘۔

ملک عبدہ کہتے ہیں کہ ’شام میں اصل کردار فوج کا ہوگا۔ فوج جہاں بشار الاسد کی بقا کے لیے کلیدی ہے وہیں ہم سب جانتے ہیں کہ شام کی بقا کا دارومدار بھی فوج پر ہی ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔