کوکس بازار کے ساحل کا قدرتی حسن خطرے میں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 دسمبر 2012 ,‭ 17:31 GMT 22:31 PST
بنگلہ دیش کا کوکس بازار

حکومت کے نئے منصوبوں میں یہ ساحلی علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے

خوبصورت ریتیلے ساحل کے ساتھ ساتھ ناریل کا پیڑ، چمکدار سورج کی روشنی اور گرم موسم، چھٹیاں گذارنے کے لیے یہ ایک مثالی جگہ ہو سکتی ہے اور یہ سب کچھ بنگلہ دیش کے کوکس بازار میں موجود ہے۔

سو کلو میٹر سے بھی لمبا کوکس بازار دنیا کا سب سے لمبا قدرتی ساحل ہے۔

خلیجِ بنگال پر اتنا لمبا ساحل ابھی تک سیاحوں کی نظر سے نہیں گزرا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اگر اس ساحل پر توجہ دی جائے تو اسے سیاحوں کے لیے مشہور کئی اہم علاقائی ساحلوں سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کو بین الااقوامی سیاحتی نقشے پر لانے کے لیے حکومت کے نئے منصوبوں میں یہ ساحلی علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

بنگلہ دیش کی حکومت آئندہ دس سالوں میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو راغب کر کے سیاحت کے کاروبار میں پانچ بلین ڈالر کی آمدنی کی توقع کر رہی ہے۔

کوکس بازار میں ماحولیات کی بحالی کے کارکن مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ جب آپ کوکس بازار کے کنارے چہل قدمی کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کا حکومت کا خواب شاید ہی پورا ہو سکے گا۔

کوکس بازار

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے کی خوبصورتی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے

ان کا کہنا ہے کہ یہ پورا علاقہ غیر منظّم طریقے سے پھیل رہا ہے۔

ساحل کے اہم علاقے پر غیر قانونی قبضہ کر کے اس پر عمارتیں تعمیر کر دی گئی ہیں جس سے ماحولیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں جو بھی ہوٹل، سرکاری عمارتیں اور دکانیں تعمیر ہوئی ہیں ان میں پلاننگ کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔

تقریباً بیس سال پہلے تک کوکس بازار ایک خوبصورت اور خاموش ترین بیچ یا ساحل ہوا کرتا تھا جہاں بڑے شہروں کی تیز رفتار زندگی اور شوروغل سے دور لوگ سکون کی تلاش میں آیا کرتے تھے تاہم اب اس علاقے کی شکل ہی بدل کر یہاں ہوٹل، ریستوراں اور رہائشی فلیٹس کی سینکڑوں عمارتیں تعمیر کر دی گئی ہیں۔

ساحل پر درجنوں دکانیں بنا دی گئی ہیں جن میں کھانے پینے کا سامان، کپڑے اور کھلونے وغیرہ فروخت ہوتے ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات کو خدشہ ہے کہ اگر ساحل اور اس کے ادرگرد سے غیر قانونی تعمیر عمارتوں کو فوراً نہیں ہٹایا گیا تو اس علاقے کی خوبصورتی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور اسے کبھی بھی بحال نہیں کیا جا سکے گا۔

کوکس بازار

علاقے میں ہوٹل، ریستوراں اور رہائشی فلیٹس کی سینکڑوں عمارتیں تعمیر کر دی گئی ہیں

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال عدالت کی جانب سے کوکس بازار سے غیر قانونی عمارتوں کو ہٹانے کا حکم آنے کے بعد بھی تمام عمارتیں اور دوکانیں ابھی تک موجود ہیں تاہم افسران کا کہنا ہے کہ اس حکم کے بعد حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان عمارتوں کی نشاندہی کرے گی جنہیں ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

سینیئر سرکاری اہلکار محمد مُنیرالاسلام کا کہنا ہے ’مسئلہ یہ ہے کہ خود کئی سرکاری عمارتیں اس علاقے میں ہیں لیکن کمیٹی کی فہرست جاری ہونے کے بعد ان عمارتوں کو گرا دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب پروفیسر احمد کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ساحل تک محدود نہیں ہے عمارتوں کی تعمیر کے لیے قریب ہی پہاڑیوں میں پیڑوں کی کٹائی کی جا رہی ہے جس کے سبب مون سون میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کے ساتھ ساتھ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ حکومت نے کوکس بازار کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور خطے میں ہر طرح کی تعمیر پر نظر رکھی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔