بی بی سی ميگزین: سال کے تین چہرے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 21:37 GMT 02:37 PST

بی بی سی ميگزین ہر سال مرد اور خواتین پر مشتمل ’سال کے تین بہترین چہروں‘ کا انتخاب کرتا ہے۔

اس ميگزین نے رواں برس کے لیے تین خواتین کا انتخاب کیا ہے جن میں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی، امریکی صحافی میری کولوِن اور ایک باکسر نکولا ایڈمز شامل ہیں۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا کے شہر منگورہ سے تعلق رکھنے والی چودہ سالہ طالبہ ملالہ یوسف کی سکول وین پر فائرنگ کے واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

واضح رہے کہ ملالہ یوسفزئی نے سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن سے قبل علاقے کے حالات پر بی بی سی اردو کے لیے ’گل مکئی‘ کے قلمی نام سے ڈائری لکھ کر شہرت حاصل کی تھی۔

بعدازاں حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن یوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی پر فائرنگ کا یہ واقعہ رواں برس نو اکتوبر کو سوات کے صدر مقام مینگورہ میں پیش آیا۔

ملالہ کو نشانہ بنائے جانے کا صدمہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا

بی بی سی مانیٹرنگ کے لیے کام کرنے والے ساجد اقبال ان کی کہانی اس طرح بیان کرتے ہیں۔

جنوری سنہ ہزار نو میں بی بی سی اردو سروس کے لیے ڈائریاں لکھنےوالی ملالہ یوسفزئی کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ شدت پسندی کے خلاف عالمی مہم کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔

اس زمانے میں طالبان کے خوف سے اس صورتِ حال پر میڈیا میں بھی کوئی بات نہیں کرسکتا تھا۔

ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرات کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کی۔

اس ڈائری میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔

اپنی ایک ڈائری میں ملالہ نے لکھا ’رات بھر گولیوں کی آوازیں آتی رہیں جس کی وجہ سے میں تین بار اٹھی۔‘

انہوں نے مزید لکھا ’سوات میں فوجی آپریشن کی وجہ سے ہمارا سکول بند ہے جس کی وجہ سے میں صبح دس بجے تک سوتی رہی۔اس کے بعد میری سہلیاں میرے گھر آئیں اور ہم نے سکول کے کام کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ آج پندرہ جنوری ہے جس کے بعد طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کا آغاز ہو گیا۔‘

چار مارچ سنہ دو ہزار نو کو اپنی ایک اور ڈائری میں ملالہ نے لکھا، ’آج ہماری استاد نے ہم سے پوچھا ہم میں سے کون طالبان کا ریڈیو سٹیشن سنتا ہے؟ متعدد لڑکیوں نے کہا وہ ان کا ریڈیو نہیں سنتیں تاہم ان میں سے کچھ نے بتایا کہ وہ اب بھی طالبان کا ریڈیو سٹیشن سنتی ہیں۔‘ ملالہ کے مطابق لڑکیوں کو اس بات کا یقین تھا کہ جب تک طالبان کا ایف ایم ریڈیو چل رہا ہے، علاقے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

میری کولوِن شام کے شہر حمص میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئی تھیں

میگزین کی فہرست میں امریکی صحافی میری کولوِن شامل ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار لِس ڈوسٹ نے سنڈے ٹائمز کے لیے کام کرنے والی امریکی صحافی میری کولوِن کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جو رواں برس فروری میں شام میں اپنی ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہو گئیں تھیں۔

لس ڈوسٹ کے مطابق گذشتہ برس دسمبر میں جب مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر سکوائر میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج شروع ہوا تو میری کولوِن مصر سے رپورٹنگ کر رہی تھیں۔

ان کے مطابق میری کولوِن اپنی ساتھیوں کے ساتھ بہت نرمی کے ساتھ پیش آتی تھیں اور ان کا رویہ صرف خبر تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ ان کی زندگی کے دکھ درر میں بھی شریک ہوتی تھیں۔

لس ڈوسٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہمیں میری کولوِن کی سب سے زیادہ ضرورت شام سے آنے والی خبروں کے لیے پڑتی تھی۔

انہوں نے کہا ہم نے اور دیگر کروڑوں افراد نے اکیس فروری سنہ دو ہزار گیارہ کو بی بی سی ورلڈ سروس ریڈیو پر میری کولوِن کی امتیازی آواز سنی جس میں وہ شام کی صورتحال بیان کر رہی تھیں۔اسی رات ہم نے یہ خبر سنی کہ شام کے مشہور صحافی رامی الاسید شام کے شہر حما میں ہلاک ہو گئے اور اس کے اگلے روز ہمیں معلوم ہوا کہ میری کولوِن اورفراسیسی فوٹوگرافر ریمی اوشلِک شام کے شہر حمص میں ہلاک ہو گئے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق اس واقعے کے چند ماہ بعد جب وہ شام کے شہر بابا امر گئیں تو انہیں میری کولوِن کی شدید کمی محسوس ہوئی۔

چینل فور نیوز کے لیے کام کرنے والے میری کولوِن کے ایک اور دوست لینڈسی کہتے ہیں ’میں جب بھی کوئی خبر کور کرنے کے لیے کہیں جاتا ہوں میں میری کولوِن کو بہت یاد کرتا ہوں۔‘

بی سی سی کے ایک سابق صحافی فرانسس ہیرسن کا کہنا ہے کہ ’میں میری کولوِن کی بہت زیادہ کمی محسوس کرتا ہں کیوں کہ وہ ان چند صحافیوں میں سے ایک تھیں جنہیں جو خبر کی اہمیت کو سمجھتی تھیں۔

ميگزین کی جانب سے سال کی تیسری بہترین منتخب ہونی والی خاتون نکولا ایڈمز ہیں۔نکولا ایڈمز کا تعلق انگلینڈ کے علاقے لیڈز سے ہے۔

نکولا ایڈمز پہلی خاتون ہیں جنھوں نے اولمپکس میں باکسنگ کا طلائی تمغہ حاصل کیا

بی بی سی کے بین ڈائر کے مطابق نکولا ایڈمز نے رواں برس منتعد ہونے والے لندن اولمپکس میں اس وقت تاریخ رقم کی جب انہوں نے باکسنگ کے مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

واضح رہے کہ نکولا ایڈمز پہلی خاتون ہیں جنہوں نے باکسنگ کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

باکسنگ لیجنڈ جو کالزئی کہتے ہیں کہ وہ نکولا ایڈمز کو ایکشن میں دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ وہ یہ سوچتے رہے کہ آیا کوئی خاتون اس طرح لڑ سکتی ہے اور مکے مار سکتی ہے۔

تیس سالہ نکولا ایڈمز بچپن سے باکسنگ میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

ایڈمز نے جب چین کی نمبر ایک خاتون باکسر رین کے خلاف فائنل مقابلے کے لیے باکسنگ رنگ میں قدم رکھا تو یہ خبر لندن اولمپکس کی بڑی خبر بن چکی تھی۔

نکولا ایڈمز نے چین کی خاتون باکسر رین کو سشکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا۔

سونے کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد پہلی پریس کانفرس میں نکولا ایڈمز کا کہنا تھا کہ اس فتح کے بعد مجھ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ میں تمام افراد کے ساتھ عاجزی کے ساتھ پیش آؤں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔