مذہبی رہنما علماء کانفرنس کا بائیکاٹ کریں:طالبان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 09:17 GMT 14:17 PST

امریکہ ناکام ہو چکا ہے اور اب مذہبی رہنماؤں کی مدد کا خواہاں ہے:طالبان

افغان طالبان نے ملک میں قیامِ امن کی غرض سے آئندہ برس کے آغاز میں کابل میں بلائی جانے والی علماء کانفرنس کو مسترد کرتے ہوئے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت نہ کریں۔

طالبان کی امارتِ اسلامیہ کے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس سراسر امریکی ایجنڈے کا پیش خیمہ ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس کانفرنس میں مذہبی علماء کو افغانستان کی حکومت نے دعوت دی ہے لیکن یہ کانفرنس سراسر امریکی ایماء پر محض ’گیارہ سالہ جہاد کے بعد افغان جہاد کے متعلق علماء کا نقطۂ نظر‘ معلوم کرنے کے لیے بلائی جا رہی ہے۔

امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سخت دباؤ کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کی بات کر رہے ہیں۔

’یہ امریکہ کی ناکامی ہے اور اسی دباؤ کے باعث اب وہ مذہبی رہنماؤں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے ’نجات‘ دلائی جائے‘۔

بیان میں دنیا بھر کے مدارس اور ممالک خصوصاً افغانستان، سعودی عرب، پاکستان ، ہندوستان، دارالعلوم دیوبند اورجامعہ الازہر کے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

بیان میں جہاد کو شرعی اور لازمی قرار دیتے ہوئے علماء سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس کانفرنس میں شرکت کریں گے تو ’بعید نہیں کہ تاریخ ان کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کر دے۔‘

"یہ امریکہ کی ناکامی ہے اور اسی دباؤ کے باعث اب وہ مذہبی رہنماؤں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ اسے ’نجات‘ دلائی جائے۔"

افغان طالبان

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ افغانستان کی امن کونسل کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد، صلاح الدین ربانی کی قیادت میں، تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آیا تھا۔ اس دورے کے دوران وفد نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ، جس کے بعد مسلم دنیا کی حمایت کے حصول اور براہ راست رابطوں سے متعلق کوششیں کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

اسی سلسلے میں ایک بین الاقوامی علماء کانفرنس بلانے کی تجویز دی گئی تھی جس کا مقصد امریکی فوج کے انخلاء کے بعد بھی طالبان حملوں کے خلاف معتبر علماء سے فتوے لینا تھا۔ وفد کا کہنا تھا کہ یہ افغان حکومت کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پیرس میں افغانستان کی صورتحال پر افغان حکومت، طالبان اور شمالی اتحاد کے نمائندوں نے ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں طالبان وفد کا موقف رہا ہے کہ ملک میں حقیقی امن صرف غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی قائم ہو سکے گا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ طالبان گروہوں، افغان دھڑوں اور افغان حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔