چھ سالہ مغوی لڑکی ماں کے پاس پہنچ گئی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 15:29 GMT 20:29 PST
عطیہ انجم

عطیہ انجم کی تین سال کے بعد اپنی ماں سے ملاقات ہوئی

تین سال قبل اپنی ماں سے بچھڑنے والی چھ سالہ برطانوی بچی عطیہ انجم ولکنسن کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا گیا ہے۔

بچی کے والد رضوان اور والدہ جیما ولکنسن کے درمیان دو ہزار آٹھ میں علیٰحدگی ہو گئی تھی۔ جس کے بعد عطیہ کو ان کے والد اغوا کرکے پاکستان لے گئے تھے۔

چھ سالہ عطیہ کو آخری بار ان کی تیسری سالگرہ کے موقعے سے دو ہزار نو میں گریٹر مانچسٹر کے ایک علاقے ایشٹن انڈر لائن میں ان کے گھر میں دیکھا گیا تھا۔

ان کے والد رضوان علی انجم فی الحال جیل میں ہیں کیونکہ انھوں نے عدالت کے حکم پر بھی عطیہ کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کیا تھا کہ وہ کہاں ہیں اور کیسی ہیں۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ عطیہ اپنے باپ کے عزیزوں کے ساتھ لاہور میں مقیم تھی اور اُن کی بر آمدگی میں پاکستانی حکام کی کوششیں شامل ہیں۔

رضوان انجم اور جیما ولکنسن

رضوان اور ولکنسن دو ہزار آٹھ میں علیٰحدہ ہو گئے تھے۔

ایشٹن انڈر لائن کی رہنے والی عطیہ کی والدہ بتیس سالہ جیما ولکنسن کی شادی انجم کے ساتھ دو ہزار آٹھ میں ختم ہو گئی تھی اور عطیہ کی گمشدگی کے بعد سے انھوں نے بار بار اپنی بچی کے حالات جاننے کے لیے اپیل کی تھی۔

گذشتہ مہینے انھوں نے آخری بار یہ اپیل کی تھی کہ ان کے لیے یہ حقیقت کسی ’ڈراؤنے خواب‘ سے کم نہیں ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ آیا اُن کی بچی عطیہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔

جمیا ولکنسن نے اپنے سابق رفیق حیات کے خلاف قانونی چارہ جوئی اس کے لیے کی تاکہ وہ اُسے بچی کے بارے میں بتا دیں۔

عدالت کو بتایاگیا تھا کہ انجم نے عطیہ کو ساؤتھ پورٹ لے جانے کے بارے میں کہا تھا لیکن وہ اُسے پاکستان کے شہر لاہور لے گیا اور جیما ولکنسن سے کہا کہ وہ اب اپنی بیٹی کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گی۔

انشورنس کمپنی کے سابق سیلزمین رضوان علی انجم کو ہائی کورٹ نے اپنی بیٹی عطیہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے بار بار انکار کی پاداش میں قید کی سزا سنا دی۔

انجم نے عدالت کو محض اتنا بتایا کہ عطیہ پاکستان یا ایران میں ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔

عطیہ

عطیہ کی کمپیوٹر کے ذریعے یہ خیالی تصویر پیش کی گئی تھی

جسٹس مور نے بارہ مہینے قید کی سزا سناتے وقت انھیں عدالت کی حکم عدولی کا مرتکب قرار دیا۔

جج نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ انھوں نے عدالت کی ہتک کی ہے اور یہ جھوٹ ہے کہ وہ نہیں جانتے ہیں کہ ان کی بیٹی کہاں ہے اور یہ کہ وہ اس سے رابطہ نہیں کر سکتے ہیں۔‘

کہا جاتا ہے کہ عطیہ کی تلاش کے سلسلے میں پولیس نے سالگرہ سے قبل کمپیوٹر کے ذریعے تیار کی گئی ایک تصویر شائع کی تھی کہ اب وہ اپنی چھٹی سالگرہ سے ایک دن قبل کس طرح نظر آ رہی ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔