چین میں انٹرنیٹ کے نئے سخت قوانین

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 15:02 GMT 20:02 PST

چین میں حکومت نے انٹرنیٹ تک رسائی کے قوانین مزید سخت کر دئیے ہیں

چین کی حکومت نے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سخت قوانین کی منظوری دی ہے۔

حکومت کے اس اقدام کا مقصد صارفین کی جانب سے انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو مکمل شناخت جمع کرانے والے قانون پر عملدارآمد یقینی بنانا ہے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کے ذریعے عوام کے آزادیِ اظہار کے حق کو مزید محدود کرنا چاہتی ہے۔

چین کی حکومت کا یہ اعلان نئی قیادت کے جانب سے انٹرنیٹ کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے نشانہ بنانے کے ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق نئے اقدامات کے تحت جو بھی صارف انٹرنیٹ، ٹیلی فون لائن اور موبائل فون کی سہولت حاصل کرے گا اس کے لیے لازم ہے کہ وہ سہولیات فراہم کرنے والی کپمنی کو اپنی اصل معلومات جمع کروائے۔

حالیہ دونوں میں مظاہروں کے انعقاد یا کسی مقام پر لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کی مدد لی جاتی رہی ہے اور چین میں بھی انٹرنیٹ کے ذریعے بدعنوان کیمونسٹ جماعت کے رہنماؤں پر تنقیدی مواد شائع کیا جاتا رہا ہے۔

چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور انٹرنیٹ صارفین مائکرو بلاگنگ یعنی مختصر پیغام رسانی کی ویب سائٹس کے ذریعے حکومت کی بدعنوانی سمیت قومی مفاد پر اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

چین میں حکام نے انٹرنیٹ کے ذریعے ملک سے باہر جانے والے مواد کی کڑی نگرانی شروع کر رکھی ہے۔ اور اکثر اوقات ’گریٹ فائر وال آف چائنا‘ کے ذریعے انٹرنیٹ پر موجود بعض معلومات تک رسائی بھی روک دی جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔