ایتھنز میں مسلمانوں کے لیے مسجد نہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 10:07 GMT 15:07 PST

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مسجد نہ ہونے کے سبب مسلمان تہہ خانوں میں نماز ادا کرتے ہیں

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں مسلمان جمعہ کی نماز کے لیے تہہ خانوں اور کھچا کھچ بھرے ہوئے کمروں میں جمع ہوتے ہیں۔

اور مسلمانوں کے لیے یونان میں عبادت کے لیے یہ عارضی انتظامات بھی غیر قانونی ہیں لیکن ان کے پاس اس کے علاوہ کوئي دوسرا چارہ بھی نہیں۔

مسلم ممالک کے پاس ہوتے ہوئے بھی پورے یورپ میں ایتھنز ہی ایک واحد دارالحکومت ہے جس میں کوئي مسجد نہیں ہے۔

یونان سنہ اٹھارہ سو بتیس میں سلطنت عثمانیہ سے آزاد ہوا تھا اور تبھی سے کسی بھی حکومت نے شہر میں مسجد کی تعمیر کی اجازت ہی نہیں دی۔

یونان میں تقریبا نوئے فیصد سے زیادہ قدامت پسند عیسائیوں کی آبادی ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال رہا ہے کہ وہاں مسجد بنانا غیر یونانی یا ان کی تہذیب کے خلاف ہے۔ لیکن چونکہ یورپ کی طرف نقل مکانی کے لیے یونان ہی پہلا پڑاؤ ہے اس کی مسلم آبادی میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔

پچاس لاکھ کی آبادی والے شہر ایتھنز میں تقریباً تین لاکھ مسلمان آباد ہیں اور اب عبادت کے لیے ایک مقررہ جگہ کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

پاکستانی نژاد ایک شہری سید محمد جمیل کہتے ہیں ’ہم مسلمانوں کے لیے یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے یہاں ایک بھی مسجد نہیں۔ یونان نے جمہوریت کو جنم دیا، تہذیت و تمدن اور مذہب کے تئیں رواداری کا سبق سکھایا ہے لیکن وہ اپنے ہی مسلمانوں کی اتنی عزت نہیں کرتے کہ انہیں نماز کے لیے ایک قانونی مسجد فراہم کر دیں۔‘'

ایک دوسرے مسلمان شفیق احمد کہتے ہیں وہ اس صورت حال میں سماج سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ ’جب ہماری کوئی تقریب ہوتی ہے تو اس کے لیے ہمارے پاس جمع ہونے کی کوئی جگہ تک نہیں ہے۔ سماج ہمیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘

حکومت پر مسجد کے لیے جہاں ایک محفوظ جگہ فراہم کرنے پر دباؤ بڑھ رہا ہے وہیں ملک میں جدید فسطائی خیالات والی سیاسی جماعت ’گولڈن ڈان‘ پارٹی بھی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔

اس جماعت کے ارکان پر تارکینِ وطن پر حملہ کرنے اور تہہ خانوں میں مخصوص نماز کی جگہوں پر توڑ پھوڑ کرنے کے الزام لگتے رہے ہیں۔

"ہم مسلمانوں کے لیے یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے یہاں ایک بھی مسجد نہیں۔ یونان نے جمہوریت کو جنم دیا، تہذیت و تمدن اور مذہب کے تئیں رواداری کا سبق سکھایا ہے لیکن وہ اپنے ہی مسلمانوں کی اتنی عزت نہیں کرتے کہ انہیں نماز کے لیے ایک قانونی مسجد فراہم کردیں۔"

اس جماعت کے نائب سربراہ الیاس پناجیوٹرس کا موقف ہے کہ ترکی کے ساتھ ملک کی سرحد پر بارودی سُرنگیں بچھا دینی چاہیئیں ’تاکہ ہمارے ملک کی طرف نقل مکانی کرنے والے وہیں ہلاک ہو جائیں، یہ ان کا مسئلہ ہے۔‘'

لیکن اب مسجد کے لیے ایک جگہ پر غور بھی ہورہا ہے۔ شہر کے پاس فوج کے لیے مخصوص ایک غیر استعمال شدہ جگہ کو دارالحکومت کی پہلی مسجد کے لیے منتخب کیا گیا ہے جس میں پانچ سو لوگ نماز پڑھ سکیں گے۔

اگر مسجد تعمیر ہوئی تو اس کے دروازے کے پاس ہی چرچ بھی ہوگا جس پر آنے جانے والوں کی نظر پڑ سکے گي اور پہلی بار دونوں مذہب کے ماننے والے قانونی طور پر ساتھ ساتھ ہوسکیں گے۔

لیکن چونکہ یونان اس وقت مالی مشکلات سے دو چار ہے اس لیے یہ ضروری نہیں کہ اس پر عمل بھی ہوسکے۔ چونکہ حکومت خود کٹوتی کے لیے پریشان ہے اس لیے اس مسجد کی تعمیر کے لیے تیرہ لاکھ ڈالر کا اعلان کرنا آ‎سان کام نہیں ہوگا۔

ترقیاتی امور کی وزارت کے سیکرٹری سٹراتسو سموپولس کہتے ہیں ’ماضی میں یونانی سماج میں مسجد کی تعمیر کے تعلق سے بڑے خدشات تھے لیکن ہمیں اس ڈر پر قابو پانا ہی ہوگا۔ مالی مشکلات ایک مسئلہ تو ہے اور حکومت کی ابھی دوسری ترجیحات بھی ہیں لیکن اس مسجد کی تعمیر ضروری ہے اور ممکن ہے کہ ہم اس پر آئندہ چند ماہ میں عمل بھی شروع کریں۔‘'

یونان کے چرچ نے بھی مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی حمایت کی ہے لیکن بعض سینیئر قدامت پسند اس کے اب بھی مخالف ہیں۔

چرچ کے ایک بشپ سیرافم کہتے ہیں ’ترکی کے دور اقتدار میں یونان نے پانچ صدیوں تک اسلامی ظلم برداشت کیا تھا اور مسجد کی تعمیر سے ان شہیدوں کی توہین ہوگي جنہوں نے ہمیں آزادی دلائی تھی۔‘

یونان میں اس سے متعلق مختلف آراء ہیں۔ ایک شخص کا کہنا تھا ’مسلمانوں کی اپنی عبادت کی جگہ ہونی چاہیے۔ یونان سے نقل مکانی کرنے والوں نے بھی دوسری جگہوں پر اپنے چرج تعمیر کیے ہیں اور عبادت کرتے ہیں تو یہ تو منافقت ہوئي۔‘

لیکن ایک دوسرے طالب علم ماریو اس سے متفق نہیں۔’ہمیں یہاں مسجد کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔ یہ عیسائیوں کا ملک ہے اور اگر انہیں مسجد چاہیے تو وہ اپنے ملک واپس چلے جائیں۔‘

یونان میں مذہب بھی قومی شناخت کا حصہ ہے اور چرچ اور حکومت میں گہرا ربط رہتا ہے لیکن مسجد کے اس مسئلے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ یونان مستقبل میں کیسی ریاست بن کر ابھرنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔