امریکیوں پر روسی بچےگود لینے کی پابندی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 14:52 GMT 19:52 PST

میگنٹسکی کی موت سے انسانی حقوق کے تعلق سے زبردست ہنگامہ ہوا تھا

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اس قانون پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکیوں کو روس کے یتیم بچوں کوگود لینے سے منع کیا گیا ہے۔

روس نے یہ قانون امریکہ کے ’میگنٹسکی ایکٹ‘ کے رد عمل میں وضع کیا ہے جس میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے مورد الزام افسران کو بلیک لسٹ کر دیا گيا تھا۔

کرپشن کے خلاف لڑنے والے روسی وکیل سرگی میگنٹسکی کی موت روس اور امریکہ کے درمیان حالیہ دور میں تعلقات خراب ہونے کی اہم وجہ بن گئی ہے۔

دو ہزار نو میں ماسکو کی ایک عدالت نے میگنٹسکی کی موت میں لاپراوہی برتنے کے الزام میں قید ڈاکٹر کو رہا کردیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جیل میں جب میگٹنسکی کی طبیعت خراب ہوئی تو ڈاکٹر نے مناسب اقدامات کیے تھے۔

ان کی موت کے سلسلے میں صرف یہی ایک مقدمہ چلا تھا۔ لیکن گزشتہ برس روس کے ایک افسر سے منسوب بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں جیل میں زد و کوب بھی کیا گيا تھا۔

میگنٹسکی روس میں برطانیہ کی ایک کمپنی سے وابستہ تھے اور انہوں نے روس میں رشوت اور کرپشن کو اجاگر کیا تھا جس میں ٹیکس حکام پر بھی الزامات عائد کیے تھے۔

"دنیا میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں رہن سہن کا معیار یہاں سے بہت بہتر ہے۔ کیا ہمیں اپنے تمام بچوں کو وہاں بھیج دینا چاہیے؟ شاید ہمیں خود بھی وہیں منتقل ہوجانا چاہیے؟ "

پوتین

لیکن جب انہوں نے حکام کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا تو انہیں کو ٹیکس چوری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور سولہ نومبر دو ہزار نو میں دورانِ حراست ہی سینتیس برس کی عمر میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

روس میں ان کی ہلاکت کرپشن کے خلاف لڑائی کی علامت بن گئی تھی اور یورپی یونین نے اس معاملے پر روسی حکومت پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔

جس کمپنی میں وہ کام کرتے تھے اس کے چلانے والے امریکی نژاد مینیجر بل براؤڈر نے روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ میں زبردست مہم چلائی تھی۔ میگنٹسکی کی موت سے پہلے بل براؤڈر روس میں بہت بڑے سرمایہ کار تھے۔

اس ماہ کے ابتداء میں ہی امریکی کانگریس نے میگنٹسکی ایکٹ منظور کیا تھا جس کے جواب میں روس کی پارلیمان نے یہ قانون وضع کیا ہے۔

روس کے صدر نے کہا کہ انہیں اس قانون پر دستخط نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے ’دنیا میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں رہن سہن کا معیار یہاں سے بہت بہتر ہے۔ کیا ہمیں اپنے تمام بچوں کو وہاں بھیج دینا چاہیے؟ شاید ہمیں خود بھی وہیں منتقل ہوجانا چاہیے؟ ‘

دو ہزار گيارہ میں عالمی سطح پر روس سے تعلق رکھنے والے چونتیس سو بچے گود لیےگئے جس میں تقریبا ایک تہائي امریکہ گئے تھے۔ لیکن اسی مدت میں روس سے تعلق رکھنے والے افراد نے تقریباً ساڑھے سات ہزار بچوں کو گود لیا۔

گزشتہ دو عشروں کے دوران امریکی تقریبا ساٹھ ہزار روسی بچوں کو گود لے چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔