شمالی کوریا، دو خطابوں میں انیس سال

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 12:25 GMT 17:25 PST
کم جونگ ان

جنوبی کوریا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نیا برس تخلیق اور تبدیلی لائے گا

شمالی کوریا کے سربراہ کم جنگ اون نے نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ نیا سال تبدیلیوں اور خوشحالیوں سے پُر ہوگا۔

کم جنگ اون نے دو ہزار گيارہ میں ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور نئے سال کے موقع پر سرکاری میڈیا کے ذریعےگذشتہ انیس برس میں یہ کسی بھی رہنما کی جانب سے پہلا خطاب ہے۔

اس سے پہلے ان کے دادا کم ال سنگ نے سنہ انیس سو چوارنوے میں ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب کیا تھا۔

کم جنگ اون کے والد کم جنگ ال عوام سے بہت کم ہی بات کیا کرتے تھے۔

نئے سال کے موقع پر انہوں نے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے اور اور دونوں کوریاؤں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ٹکراؤ سے جنگ ہی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان ٹکراؤ کو ختم ہونا چاہیے لیکن انہوں نے ملک کی فوجی طاقت بڑھانے کو اپنی ترجیح بھی بتایا۔

ان کا کہنا تھا ’فوج کی طاقت کسی بھی قوم کی مضبوطی کا مظہر ہوتی ہے۔ ملک اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے بعد ہی ہر پہلو سے ترقی کرتا اور پھلتا پھولتا ہے‘۔

ان کے اس بیان کو نہ صرف سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا بلکہ ملک کے تین بڑے اخبارات نے اسے مشترکہ اداریے کے طور پر بھی شائع کیا ہے۔

"فوج کی طاقت کسی بھی قوم کی مضبوطی کا مظہر ہوتی ہے۔ ملک اپنی فوجی طاقت بڑھا نے کے بعد ہی ہر پہلو سے ترقی کرتا اور پھلتا پھولتا ہے۔"

کم جنگ اون

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ دو ہزار تیرہ تخلیق اور تبدیلی کا سال ہوگا۔ انہوں نے اس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تبدیلیاں ہوں گی جن سے غربت کی شکار اور الگ تھلگ پڑی ریاست بڑي معیشت بن کر ابھرے گی اور زندگی کا معیار بہتر ہو جائے گا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق کم جنگ اون نے نئے سال کے موقع پر ہونے والے موسیقی کے ایک پروگرام میں شرکت کی۔

شمالی کوریا کے رہنما نے یہ پیغام ایک ایسے وقت دیا ہے کہ جب شمالی کوریا پر ایک راکٹ کے حالیہ تجربے کے بعد اقوام متحدہ میں نئی پابندیاں لگانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں شمالی کوریا نے بین الاقوامی انتباہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس سے قبل شمالی کوریا نے اسی سال اپریل میں بھی راکٹ کا تجربہ کیا تھا جو ناکام رہا تھا۔

اس تجربے کے بعد سے ہی عالمی برادری شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ امریکہ نے اس پر اپنے سخت رد عمل میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر کے دور مار راکٹوں کا تجربہ کرنے کے نتائج بھگتنے پڑیں گے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی شمالی کوریا کے اس تجربے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

شمالی کوریا کہتا رہا ہے کہ راکٹ کا تجربہ پُرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن اس کے ہمسایہ ممالک جنوبی کوریا اور جاپان کے علاوہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس تجربے کی آڑ میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔