’ امریکہ بازار حصص میں نمایاں بہتری‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 17:50 GMT 22:50 PST
امریکی ایوانِ نمائندگان

ایک تہائی ری پبلکن ارکان نے بھی معاہدے کے حق میں ووٹ دیا

امریکی ایوان نمائیدگان میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں خود کار کٹوتی سے بچاؤ کے بل ’ فسکل کلف ‘کی منظوری کے بعد بازار حصص میں فوری طور پر تیزی دیکھی گئی۔

بدھ کی صبح نویارک میں کاروبار شروع ہوا تو ڈاؤ جونز کے بازار حصص میں ایک اعشاریہ نو فیصد اور نصداق میں دو اعشاریہ سات فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ یورپی شیئرز بازار میں دو فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا۔

اس سے پہلے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ اگر ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں خود کار کٹوتی کے کوئی 600 ارب ڈالر کے بل پر نمائدگان میں اتفاق رائے نہ ہوسکا تو امریکی بازار ایک بار پھر مندی کا شکار ہوجائیگا، جس کا رد عمل عالمی سطح پر بازار حصص پر بھی نظر آئیگا۔

اس سے پہلے امریکی کانگریس کے ایوانِ زیریں نے بھی ملک کے متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں خود کار کٹوتی سے بچاؤ کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ تاہم یہ معاہد ہ فی الحال صرف دو ماہ کے لیے ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے آنے والے دنوں میں ہونے والی بات چیت میں سمجھوتوں کے لیے تیار ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ میں بل کی حمایت میں دو سو ستاون جبکہ مخالفت میں ایک سو سڑسٹھ ووٹ ڈالے گئے۔

اگرچہ بل کی حمایت میں اکثریتی ووٹ ڈیموکریٹس نے ہی دیے لیکن ایک تہائی ری پبلکن ارکان نے بھی اس کے حق میں ووٹ دے کر اس بل کی منظوری کو ممکن بنایا۔

ایوان میں اکثریتی جماعت ری پبلکن پارٹی کے کچھ ارکان اس بل میں اخراجات میں کٹوتیوں کے بارے میں ترامیم بھی لانا چاہتے تھے لیکن بدھ کو بازار حصص کھلنے سے قبل اس بل کی منظوری کے لیے موجود دباؤ کی وجہ سے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس اور ری پبلکن رہنماؤں کے اتفاقِ رائے کے بعد امریکی سینیٹ پہلے ہی آٹھ کے مقابلے میں نواسی ووٹوں کی اکثریت سے اس معاہدے کی منظوری دے چکی ہے۔

ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اب سے قانونی شکل دینے کے لیے اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی رہ گئے ہیں۔

امریکی صدر نے اس معاہدے کو ملکی معیشت کی مضبوطی کے لیے کی جانے والی وسیع تر کوششوں میں سے ایک قدم قرار دیا ہے۔ بل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی انتخابی مہم میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی اور امیروں کے لیے اضافے کا جو وعدہ انہوں نے کیا تھا وہ پورا ہوگیا ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے مزید کام کرنا ہوگا اور وہ آنے والی بات چیت میں سمجھوتوں کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بجٹ کے معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن قرضوں کی سطح پر کانگریس سے مزید بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

متوسط طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی اور امیروں کے لیے اضافے کا وعدہ پورا ہوگیا: اوباما

اس بل کی منظوری کے نتیجے میں اب آئندہ دس برس میں وفاقی بجٹ میں ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر کی کٹوتیوں کا معاملہ دو ماہ کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس اس پر دوبارہ بات چیت کر سکیں اور اس معاملے پر وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔

ٹیکس میں اضافے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے بارے میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور ہونے والا قانون اکتیس دسمبر 2012 کو ختم ہوگیا تھا اور نئے قانون پر اتقاق نہ ہونے کی صورت میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کا خود کار نظام نافذ العمل ہوا تھا۔

اس نظام کی وجہ سے ٹیکسوں میں پانچ سو چھتیس ارب ڈالر اور حکومت کے داخلی اور عسکری پروگراموں میں ایک سو نو ارب ڈالر کی کٹوتیاں ہونی تھیں اور قانون منظور نہ ہونے کی صورت میں چار افراد کا خاندان جس کی مشترکہ آمدن پچھتہر ہزار امریکی ڈالر ہے اسے تین ہزار تین سو ڈالر اضافی ٹیکس دینا پڑتا۔

اقتصادی ماہرین کا خیال تھا کہ اگر یہ نیا نظام نافذ ہو جاتا تو نہ صرف امریکہ ایک بار پھر کساد بازاری کی طرف لوٹ جاتا بلکہ اس کے عالمی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے۔

منظور کیے جانے والے بل کے تحت اب چار لاکھ ڈالر سالانہ سے کم آمدن والے امریکیوں کو ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔ ڈیموکریٹس نے ابتدائی طور پر یہ حد ڈھائی لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

اس کے علاوہ وراثتی ٹیکس میں پانچ فیصد کا اضافہ کر کے اس کی شرح چالیس فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ بےروزگاری الاؤنس لینے والے افراد کو بھی ٹیکس کی چھوٹ میں ایک برس کی توسیع دی گئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔