عراق کے سنی قبائل کا شیعہ وزیر اعظم کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 3 جنوری 2013 ,‭ 02:00 GMT 07:00 PST

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی مسلک کے اعتبار سے شیعہ ہیں اور ان کی حکومت کو شیعہ جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

عراق کے سنی مسلمانوں نے ملک کے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے۔ مغربی عراق کے صوبے انبارکے شہر رمادی میں بین القوامی ہائی وے پر خیموں کا ایک نیا شہر آباد ہو چکا ہے۔ یہ خیموں کا شہر عراق میں سنی مسلمانوں میں پائے جانے والے غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

عراق میں سنی مسلمانوں کا احتجاج انبار میں ایک سنی رہنما کے گھر پر پولیس کے چھاپے کے بعد شروع ہوا ہے۔ عراق کے سنی نائب وزیر اعظم طارق الہماشمی کو ملک سے فرار ہوئے ایک برس ہو چکا ہے اور ان کی غیر موجودگی میں انہیں دو بار موت سزا کا حکم سنایا جا چکا ہے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ عراق کے شیعہ وزیر اعظم سنی مسلمانوں سے بدلہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوری المالکی اپنے سیاسی مخالفوں کو دبانے کے لیے کمزور عدلیہ سے اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہے ہیں۔

فلوجہ یوتھ کونسل کے خیمے کے باہر لگے ہوئے بینر پر یہ مطالبہ درج ہے، ’ہم عراق کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کو فرقہ وارانہ جنگ کی طرف نہ دھکیلے۔‘

ایک اور خیمے پر لکھا ہے ’ ہم مالکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سنی مردوں اور عورتوں کو ایرانی جیلوں سے رہا کروائے۔‘

اس احتجاج میں سب سے جذباتی معاملہ ان عورتوں کا ہے جنہیں پولیس نے اس لیے گرفتار کر لیا ہے کہ وہ ان کے والد یا بھائیوں کوگرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔

عراق میں سنی مسلمانوں کا احتجاج انبار میں ایک سنی رہنما کے گھر پر پولیس کے چھاپے کے بعد شروع ہوا ہے۔ عراق کے سنی نائب وزیر اعظم طارق الہماشمی کو ملک سے فرار ہوئے ایک برس ہو چکا ہے اور ان کی غیر موجودگی میں انہیں دو بار موت سزا کا حکم سنایا جا چکا ہے۔

انبار کے سب طاقتور قبیلے کے سردار علی حاتم سلیمان کا کہنا ہے کہ اب معاملہ ناموس کا ہے۔’نہ تو سیاست، نہ آئین ، نہ اقوام متحدہ یہ معاملہ حل کر سکتی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہماری عورتوں کو اس چوک میں رہا کرے۔‘

نوری المالکی کو ایسی شیعہ جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جن کا کہنا ہے کہ ان پر آئے روز اس لیے حملے ہوتے ہیں کہ وہ شیعہ ہیں۔

لیکن عراق کے ایک اور شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عراق کی شیعہ اور سنی آبادی ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے سنی مسلمانوں کے احتجاجی خیمے کے شہر میں اپنا ایک وفد بھیج کر انہیں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔

مقتدیٰ الصدر ماضی میں نوری المالکی کی حکومت کو گرانے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔