سری لنکا: چیف جسٹس کا مواخذہ ’غیر آئینی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 00:26 GMT 05:26 PST

سری لنکا کی چیف جسٹس شیرانی بندرانائکے سپریم کورٹ کے باہر

سری لنکا کی سپریم کورٹ نے چیف جسٹس شیرانی بندرانائکے کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

سری لنکا کی پارلیمانی کمیٹی نے دسمبر میں چیف جسٹس شیر شیرانی بندرانائکے کو بے ضابطگی کے تین الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس بندرا نائکے کسی مالی اور پیشہ ورانہ بے ضابطگی سے انکار کرتی ہیں۔ چیف جسٹس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان سے نجات حاصل کرنا اور عدلیہ کی آزادی پر ضرب لگانا چاہتی ہے۔

وکلا اور سول سوسائٹی کے اراکان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کے سیاسی محرکات ہیں ۔ ان کا کہنا ہے صدر راجہ پکشے سپریم کورٹ کی طرف سے کیے جانے والے کئی فیصلوں سے ناراض ہیں۔

حکومت تردید کرتی ہے کہ وہ چیف جسٹس کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چیف جسسٹس کو قصوروار قرار دینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔

سری لنکا کے وزیر اطلاعات نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے متعلق پارلیمنٹ کے سپیکر کے ردعمل سے پہلے کسی قسم کوئی تبصرہ غیر مناسب ہو گا۔

مسز بندرانائکے کے خلاف تفتیش اس کے بعد شروع کی گئی تھی جب انھوں نے کئی حکومتی بلوں کے خلاف فیصلے دیے تھے۔ ان میں صدر مہندرا راجاپکشے کے بھائی اور معاشی ترقی کے وزیر باسل راجاپکشے کے اختیارات میں اضافہ کرنے کا بل بھی شامل تھا۔

سری لنکا کے پارلیمانی قواعد کے تحت اگر چیف جسٹس کو کسی الزام میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہو اور 225 ارکان کے ایوان کی اکثریت نے ان کے خلاف ووٹ دیا، تو صدر انھیں برطرف کر سکتے ہیں۔

صدر راجا پکشے کی جماعت کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر راجاپاکسے نے 2009 میں خونریز اور طویل جنگ کے بعد تمل ٹائیگر باغیوں کو کچلنے کے بعد اپنی ذات میں بے تحاشا طاقت مجتمع کر لی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔