بحرین:حکومت مخالف کارکنوں کی سزائیں برقرار

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 15:18 GMT 20:18 PST

بحرین میں فروری سنہ دو ہزار گیارہ میں جمہوریت نواز مظاہرے شروع ہونے کے بعد بے چینی پائی جاتی ہے

بحرین کی سب سے بڑی اپیل عدالت نے حکومت مخالف تحریک میں سرگرم تیرہ کارکنان کو دی جانے والی سزائیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان افراد کے وکلاء کا کہنا ہے ان کے موکلوں کے پاس ان سزاؤں کو ختم کروانے کا یہ آخری موقع تھا۔

محمد الجشی نامی وکیل نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو ماناما سے ٹیلی فون پر بتایا کہ عدالت کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف مزید اپیل کرنا ممکن نہیں ہے۔

بحرین کے فوجی ٹریبیونل نے گزشتہ برس ستمبر میں حزبِ مخالف کے جن بیس کارکنان کی اپیلیں مسترد کی تھی ان میں وہ تیرہ کارکن بھی شامل ہیں جن کی یہ آخری اپیل مسترد کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ان افراد کو ریاست کے خلاف سازش کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

تیرہ میں سے آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے جن میں عبدالہادی خواجہ بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ سال اپنی حراست کے خلاف احتجاجاً ایک سو دس دن کی بھوک ہڑتال کی تھی۔

بحرین میں فروری سنہ دو ہزار گیارہ میں جمہوریت نواز مظاہرے شروع ہونے کے بعد بے چینی پائی جاتی ہے۔

بحرین میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مظاہرین نے دارالحکومت منامہ کے مرکز میں جمع ہو کر اکثریتی شیعہ آبادی کے حقوق اور روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے بحرین میں برسراقتدار سنی شاہی خاندان کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا تھاـ

دوسری جانب بحرین کی حزبِ مخالف اور انسانی حقوق سے متعلق گروپوں نے عدالتی فیصلے کی مذمت کی ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق گروپوں نے ان سزاؤں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارکنوں کے خلاف ریاست کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد اکسانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور ان کی حراست اور ان پر قائم کیے جانے والے مقدمات بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہیں۔

یاد رہے کہ بحرین کے فوجی ٹریبیونل نے جن بیس افراد کو سزا سنائی تھی اُن میں سے تیرہ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں اپیل دائر کی تھی جبکہ سات دیگر افراد کو ان کی غیر حاضری، ملک سے غیر موجودگی یا چھپ جانے پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق عدالت کا فیصلہ حکومت میں موجود سخت گیر مؤقف رکھنے والے افراد کی بڑی فتح ہے جو ریاست کی تبدیلی کو ناقابلِ معافی جرم سمجھتے ہیں۔

بحرین کی حکومت کے خلاف فروری دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والوں ان مظاہروں میں اب تک کم سے کم ساٹھ افراد ہلاک اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے جن میں متعدد کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔