ریپبلکن چک ہیگل ممکنہ امریکی وزیر دفاع

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 17:26 GMT 22:26 PST

چک ہیگل اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نامزد جان برنین کی سینٹ سے منظوری لینی ہوگی

امریکی صدر براک اوباما نے اپنی صدارت کی دوسری مدت کے لیے ایک سابق ریپبلکن سینیٹر چک ہیگل کو منفی سیاسی بازگشت کے باوجود وزیر دفاع بنانے کا فیصلہ کا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر چک ہیگل پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل کے مخالف رویہ رکھتے ہیں۔

چک ہیگل ایک آزادانہ رائے رکھنے والے سینیٹر کی شہرت رکھتے ہیں اور وہ موجودہ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کی جگہ لیں گے۔

ریپبلیکن ارکان میں نیبراسکا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کے اسرائیل مخالف خیالات کی وجہ سے اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

چک ہیگل اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے نامزد جان برنین کی سینٹ سے منظوری لینی ہوگی۔

توقع ہے کہ وائٹ ہاؤس سوموار کو ان دونوں نامزدگیوں کا با ضابطہ اعلان کرے گا۔

"چک ہیگل امریکی تاریخ کے اسرائیل کے خلاف انتہائی مخاصمت رکھنے والے پہلے وزیر دفاع ہوں گے۔"

امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وزارت خارجہ کے لیے نامزد سینیٹر جان کیری، جو ہلری کلنٹن کی جگہ لیں گے، ہیگل اور سی آئی اے کے غیر رسمی نامزد چیف بریننن مل کر اوباما کی دوسری مدت صدارت کے لیے امریکہ کی قومی سکیورٹی پالیسی ترتیب دینے میں مدد دیں گے۔

چھیاسٹھ سالہ چک ہیگل کو ویت نام جنگ میں نمایاں کارکردگی پر تمِغہ دیا جا چکا ہے تاہم ایران کے خلاف اُن کے نرم رویے اور اسرائیل کے لیے مخاصمانہ خیالات رکھنے کے باعث خیال ہے کہ سینیٹ سے ان کی منظوری لینا آسان نہیں ہوگا تاہم کسی بھی ریپبلکن سینیٹر نے ہیگن کی نامزدگی رکوانے کی کوشش نہیں کی۔

چک ہیگل نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی گفت و شنیدکو کڑی تنقید کا نشانہ بنا یاتھا۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان کے امن مذاکرات میں ایران کو بھی شامل کیا جائے۔

امریکی دفتر خارجہ کی اہلکار ارون ڈیوڈ میلر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ چک ہیگل نے ایک مرتبہ امریکہ میں اسرائیلی لابی کے بارے میں کہا کہ یہودی لابی یہاں بہت سے لوگوں کو ڈراتی دھمکاتی رہتی ہے، ان کہنا تھا کہ ’میں اسرائیل کا نہیں امریکہ کا سینیٹر ہوں‘۔

ایک امریکی سینیٹر لینڈسے گراہم کا کہنا تھا کہ چک ہیگل امریکی تاریخ کے اسرائیل کے خلاف انتہائی مخاصمت رکھنے والے پہلے وزیر دفاع ہوں گے۔

ایک اور ریپبلکن رکن نے کہا کہ وارت دفاع کے لیے ہیگل کی تقرری سے مشرق وسطی میں ہمارے دوست ملک اسرائیل کے لیے انتہائی غلط پیغام جائے گا۔

وائٹ ہاؤس نے وارت دفاع کے لیے ہیگل کی نامزدگی پر ہونے والی منفی تنقید کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیگل کے نظریا ت کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔