’شام کے کھنڈر بننے سے پہلے خونریزی روکیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 7 جنوری 2013 ,‭ 15:52 GMT 20:52 PST

پوپ بینیڈکٹ نے شام کے لوگوں کے لیے امن کی دعا کی

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ شام میں جاری فسادات کو ختم کیا جائے اس سے پہلے کہ ملک ’کھنڈر‘ بن جائے۔

سفارتکاروں سے اپنے سالانہ خطاب میں انھوں نے شامی عوام کی شدید مشکلات کا ذکر کیا اور ساتھ ہی جنگ بندی اور امن مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا بیان شامی صدر بشار الاسد کی اس تقریر کے ایک روز بعد آیا ہے جس میں انھوں نے اپنے مخالفین کو مغربی ممالک کی ’کٹھ پتلیاں‘ قرار دیا تھا۔

اس تقریر میں صدر الاسد نے ایک امن منصوبہ بھی پیش کیا تھا جسے امریکہ نے حقیقی سے دور کہہ کر رد کر دیا تھا۔ تقریر کے ردِ عمل میں یورپی یونین نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ صدر اسد اقتدار سے علیحدہ ہوں اور سیاسی تبدیلی کی اجازت دیں۔

اس سے پہلے بھی پوپ بینیڈکٹ نے شام میں جاری خونریزی کے خاتمے پر زور دیا تھا۔ کرسمس کے موقع پر ویٹیکن میں اپنے روایتی پیغام میں انہوں نے شام کے بارے میں اپنی اِس اپیل کو دہرایا تھا۔

اس موقع پر پوپ بینیڈکٹ نے شام کے لوگوں کے لیے امن کی دعا کی تھی اور انہوں نے اپیل کی تھی کہ امدادی تنظیموں کو پناہ گزینوں تک رسائی کی اجازت ملنی چاہیے۔

شام میں سنہ دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والی کشیدگی میں اقوام متحدہ کے مطابق ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور یورپی یونین شامی باغیوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ چین اور روس صدر بشارالاسد کی حکومت کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔

شام اور اقوام متحدہ کے مشترکہ ایلچی اخضر براہیمی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام کے مسئلے کا بات چیت کے ذریعے پرامن حل نہ نکالا گیا تو شام میں شدید تباہی ہو گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔