لشکرگاہ کی ماڈل جیل

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 09:22 GMT 14:22 PST

افغانستان کی جیلوں کے آس پاس ہمہ وقت سخت پہرہ رہتا ہے

ایک وقت تھا جب افغانستان میں جیلوں کا نظام بہت خراب تھا اور قید خانوں میں تشدد کے واقعات اور شرپسند عناصر کی بھر مار تھی لیکن جیلوں کی اصلاحات کے آغاز سے صوبہ ہلمند میں لشکرگاہ کی جیل ایک ماڈل جیل میں تبدیل ہوگئی ہے۔

لشکرگاہ کی جیل اب افغانستان کی ان دوسری جیلوں کی طرح نہیں ہے جہاں سے اذیت اور تشدد کی بو آتی ہو۔

کچھ وقت پہلے ہی کی بات ہے کہ اس جیل پر کنٹرول ایک مشکل کام تھا۔ یہاں جیل حکام کا ہی قتل ہو جاتا تھا اور جیل میں کسی غیر ملکی کا داخل ہونا تو تقریباً ناممکن تھا۔

لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور اس قید خانے کا مقصد اب طالبان سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی محض سزا دینا نہیں بلکہ ان کی اصلاح بھی ہے۔

لشکرگاہ جیل کی وركشاپ میں قیدیوں کو کئی طرح کے کام بھی سکھائے جاتے ہیں جن میں موٹر سائیکل کے انجن کی مرمت بھی شامل ہے۔

اس طرح کی مرمت کے کام میں کئی ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو گزشتہ برس افیون کی فصلوں پر مار جانے والے چھاپے میں پکڑے گئے تھے۔ ایک دوسرے کمرے میں کچھ قیدی کڑھائی بھی سیکھ رہے ہیں۔

"ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ان قیدیوں کے ساتھ کام کریں۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو شدت پسندی کی طرف چلے گئے ہیں تاکہ ان کی ذہنيت میں تبدیلی لائی جاسکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ رہائی کے بعد وہ پھر سے شدت پسندی کی طرف رخ نہیں کریں گے۔"

سابق برطانوی جیل افسر فل رابنسن

اس جیل میں بہت سے قیدی قتل اور اغوا کرنے جیسے جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں جنہیں اب کمپیوٹر اور انگریزی کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔

ایک قیدی اسد اللہ کہتے ہیں ’میں پہلے طالبان کے ساتھ تھا۔ میں پہلی بار انگریزی اور کمپیوٹر کی كلاسوں میں شریک ہوا ہوں۔ یہاں 100 کے قریب طالب علم ہیں جن میں سے اسی فیصد طالبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کمپیوٹر دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔‘

جیل میں کچھ خواتین قیدی بھی ہیں جنہیں باقی لوگوں سے الگ رکھا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ خواتین ہیں جو اپنے شوہروں کے ظلم کی وجہ سےگھروں سے بھاگی تھیں۔

ایک خاتون قیدی کہتی ہیں ’میں گھر چھوڑ کر اس لیے فرار ہوئی کیونکہ میں اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہتی تھی۔ میری شادی بہت چھوٹی عمر میں کر دی گئی تھی اور میرا شوہر بہت ہی ظالم تھا۔ میں نے اور تو کچھ نہیں کیا اور بھاگ کر حکومت کے پاس ہی گئی تھی اور انہیں بتایا کہ مجھے انصاف چاہیے لیکن انہوں نے مجھے جیل میں ڈال دیا۔‘

افغانستان کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ شوہر سے تحفظ کے نام پر ایسی خواتین کو جیل میں رہنا پڑتا ہے کیونکہ شوہر بھاگی ہوئی بیوی سے کسی بھی حالت میں بدلہ لینا چاہتے ہیں۔

شوہروں سے تحفظ کے لیے خواتین کو جیل میں رکھنا پڑتا ہے

اس جیل میں کی گئی اصلاحات میں برطانوی اہلکاروں کا اہم کا کردار ہے جن کے تعاون سے اس جیل کا نظم و نسق چل رہا ہے۔

سابق برطانوی جیل افسر فل رابنسن انہی میں سے ایک ہیں۔ فل کہتے ہیں ’ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ان قیدیوں کے ساتھ کام کریں۔ ہم ان لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو شدت پسندی کی طرف چلے گئے ہیں تاکہ ان کی ذہنيت میں تبدیلی لائی جاسکے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ رہائی کے بعد وہ پھر سے شدت پسندی کی طرف رخ نہیں کریں گے۔‘

لشکرگاہ کی جیل میں اصلاحات کے باوجود سکیورٹی کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ قیدیوں کو رہا کرانے کے ارادے سے طالبان نے اس جیل پر کئی بار حملے کیے لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

افغانستان میں یہ مثالی جیل برطانوی تعاون سے چل رہی ہے اور یہ تو کسی کو پتہ نہیں کہ جب اس برس کے آخر میں برطانوی فوجوں کی واپسی شروع ہو جائےگی تو اس کے حالات کیسے رہیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔