یورو زون میں بے روزگاری کی نئی بلند شرح

آخری وقت اشاعت:  بدھ 9 جنوری 2013 ,‭ 21:04 GMT 02:04 PST

یورپ میں حکام کے مطابق گذشتہ سال نومبر میں بے روزگاری کی شرح گیارہ اعشاریہ آٹھ فیصد تک پہنچ گئی جو یورو زون کی ابتک کی سب سے بلند شرح ہے۔

سترہ ممالک کے یورو اتحاد میں شامل سپین جو معاشی بحران سے دوچار ہے وہاں بے روز گاری کی شرح سب سے بلند ریکارڈ کی گئی جو چھبیس اعشاریہ چھ فیصد تھی۔

اس کے بعد نومبر میں یونان میں بے روزگار کی شرح بیس فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اس وقت یورپی اتحاد میں بے روز گار افراد کی تعداد دو کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔

اعداد و شمار کی یورپی ایجنسی کے مطابق یورپی زون میں بے روز گار افراد کی تعداد اٹھارہ اعشاریہ آٹھ ملین یعنی ایک کروڑ اٹھاسی لاکھ ہے۔

یورو زون میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح چوبیس اعشاریہ چار فصید جبکہ یورپی اتحاد میں یہ شرح تیئس اعشاریہ سات فیصد تھی۔

پچیس سال سے کم عمر بے روز گار افراد کی تعداد یونان میں ستاون اعشاریہ چھ جبکہ سپین میں چھپن اعشاریہ پانچ فیصد تھی۔

یورپ میں آسٹریا میں بے روزگار کی شرح سب سے کم چار اعشاریہ پانچ فیصد دیکھنے میں آئی جبکہ جرمنی میں یہ پانچ اعشاریہ چار فیصد تھی۔

یورو زون اور یورپی اتحاد کے ممالک کی کساد بازاری سے نمٹنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اس میں حکومتیں خودمختار قرض جو معاشی ترقی پر اثر انداز ہوتے ہیں کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔

تاہم پیر کو یورپی کمیشن کے صدر جوز مینوئل بیروسو نے کہا کہ بہت برے حالات اب گزر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ستمبر میں یورپ کے مرکزی بینک کی جانب سے یورو زون کی حکومتوں کے قرض کی لامحدود خریداری کے اعلان کے بعد اب معاشی بحران سے دوچار ممالک اس قابل ہونگے کہ وہ کم شرح سود پر قرض حاصل کر سکیں اور یہ ان کے خیال میں ایک نیا موڑ تھا۔

یورو زون میں مارچ سال دو ہزار آٹھ میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی اس سے پہلے بلند شرح پندرہ فیصد تھی۔

بی بی سی کی معاشی امورکے نامہ نگار اینڈریو والکر کا کہنا ہے کہ بے روز گاری کی شرح میں نمایاں اضافہ یورو زون کے مرکز میں واقعہ ممالک سپین، یونان، قبرص اور پرتگال میں دیکھنے میں آیا۔ حیرت انگیز بات جمہوریہ ائر لیند میں بے روزگاری کی شرح میں کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس رجحان میں اضافہ ہو گا اور اس کی وجہ سے حکومتوں کے لیے قابل تشویش قرضوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ٹیکس حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔