فلسطینی رہنماؤں کی قاہرہ میں بات چیت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 23:10 GMT 04:10 PST
فائل فوٹو

حماس کے رہنما خالد مشعل اور فلسطینی اتھارٹی کے رہنما کی گذشتہ ماہ بھی مصر میں ملاقات ہوئی تھی

فلسطین گروپ الفتح اور حماس کے رہنماوں نے باہمی اختلافات ختم کرنے کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ملاقات کی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی اور الفتح کے رہنما محمود عباس اور حماس کے رہنما خالد مشعل نے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے سے پہلے مصر کے صدر محمد مرسی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔

ایک اعلیٰ فلسطینی اہلکار کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں کوئی اہم پیش رفت متوقع نہیں ہے۔

حماس غزہ میں اور فتح غرب اردن میں حکمران ہے۔

حماس اور الفتح کی راہیں اس وقت جدا ہوگئی تھیں جب حماس نے سال دو ہزار سات میں پرتشدد تصادم کے بعد الفتح کو غزہ سے نکال کر زبردستی وہاں کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ تاہم حال ہی میں دونوں جماعتوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو غرب اردن اور غزہ میں جلسوں کی اجازت دی تھی۔

تاہم کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور منگل کو غزہ میں حماس کے زیر انتظام ایک عدالت نے الفتح سے منسلک الاقصیٰ بریگیڈ کے ایک رہنما کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کو الفتح نے سیاسی اور غیر قانونی قرار دیا تھا۔

الفتح اور حماس کے درمیان تقریباً دو سال پہلے مصالحت کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت نگران حکومت کا قیام اور اس کی مدد سے مئی سال دو ہزار بارہ میں نئے انتخابات کا انعقاد تھا۔تاہم اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

حماس اور الفتح کی اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں بنیادی فرق ہے۔ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا اور تشدد ترک کرنے پر رضامند نہیں ہے اور نہ ہی فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو تسلیم کرتا ہے۔

حماس کو اسرائیل، یورپی یونین اور امریکہ دہشت گرد گروپ قرار دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔