’یورپی اتحاد کے بارے میں ریفرینڈم پر خدشات‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 02:20 GMT 07:20 PST

امریکی انتظامیہ نے پہلی بار کھلے عام برطانیہ کے یورپی اتحاد کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ریفرینڈم کے اثرات پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ ان کے ملک کے مفاد میں ہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین میں ایک مضبوط آواز رہے۔

امریکی حکمۂ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے یورپی امور کے فلپس گورڈن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون آئندہ کی یورپی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم تقریر کی تیاری کر رہی ہیں۔

یورپ کے منسٹر ڈیوڈ لیڈنگٹن سے لندن میں ملاقات سے پہلے فلپس گورڈن سے جب صحافیوں نے پوچھا گیا کہ برطانیہ کا ریفرینڈم ممکن ہے۔

اس پر انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ ہمیشہ امریکہ کا اہم اتحادی رہے گا اور جو برطانیہ کے مفادات ہیں وہ برطانیہ پر منحصر ہے۔‘

’ ہمارے یورپی اتحاد سے ایک انسٹیٹوٹ کے طور تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا کی ابھرتی ہوئی آواز ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ کو یورپی اتحاد میں ایک مضبوط آواز کے طور پر دیکھیںآ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے۔‘

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر آئندہ کی پارلیمان کے کسی موقع پر یورپی اتحاد پر ریفرینڈم کرانے کے لیے دباؤ ہو گا اور کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کنزرویٹوز ووٹرز کو پیشکش کریں گے کہ یورپ میں برطانیہ کی پوزیشن پر ’اصل تبدیلی‘ اور ’اصل انتخاب‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔