موسم بہار میں’بیشتر‘امریکی جنگی آپریشنز ختم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جنوری 2013 ,‭ 22:21 GMT 03:21 PST

صدر کرزئی امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے صدر اوباما سمیت اہم امریکی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں

امریکہ کے صدر براک اوباما اور افغان صدر حامد کرزئی اس بات پر رضامند ہو گئے ہیں کہ افغانستان میں اس موسم بہار میں امریکی افواج کے’ زیادہ تر‘ جنگی کارروائیاں ختم کر دی جائیں گی۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی اور صدر براک اوباما کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد جنگی مشن کے بارے میں اعلان کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوحا میں بات چیت کرنے کی حمایت بھی کی۔

توقع ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کا کردار مددگار کے طور پر تبدیل ہو جائے گا اور یہ پہلے کے اعلان کردہ منصوبے سے قدرے جلدی ہو گا جس میں افغان سکیورٹی فورسز سکیورٹی کی ذمہ داریوں کی قیادت کریں گی۔

وائٹ ہاؤس میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ’موسم بہار کے شروع سے ہمارے فوجیوں کا ایک مختلف مشن ہو گا، وہ تربیت، مشورہ اور افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ ایک تاریخی لمحہ ہو گا اور مکمل طور پر ایک خودمختار افغانستان کی جانب ایک اور قدم ہو گا‘۔

خیال رہے کہ منصوبے کے مطابق سال دو ہزار چودہ تک افغانستان سے چھیاسٹھ ہزار امریکی فوجیوں نے نکلنا ہے۔

اس کے علاوہ قیدیوں کو افغان حکومت کے حوالے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ صدر کرزئی نے اس کا شدت سے مطالبہ کیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں افغان خودمختاری کے لیے یہ بہت اہم ہے۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی دعوت پر ہی امریکی فوجی افغانستان میں سال دو ہزار چودہ کے بعد ایک معاہدے کے بعد قیام کر سکیں گے جس میں انہیں افغان قوانین سے استثنیٰ کی ضمانت دینا ہو گی۔

اس موقع پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ’وہ یہ سن کر بہت زیادہ خوش ہیں کہ موسم بہار میں افغان سکیورٹی فورسز سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی، بین الاقوامی افواج، امریکی افواج اب دیہاتیوں میں موجود نہیں ہوں گی اور اب یہ کام افغان سکیورٹی فورسز کی ذمے ہو گا کہ وہ افغان لوگوں کو سکیورٹی اور تحفظ فراہم کریں‘۔

صدر اوباما اور صدر کرزئی نے عزم کیا کہ دو طرفہ سکیورٹی کے معاہدے کی تیاری جتنی جلدی ہو سکے ممکن بنائی جائےگی۔

امریکی فوج کے کمانڈروں کی رائے کے مطابق افغانستان میں شدت پسندوں کا پیچھا کرنے اور افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کرنے کے لیے چھ ہزار سے پندرہ ہزار تک فوج افغانستان میں رکھی جائے۔

صدر براک اوباما نے جمعہ کو کہا کہ وہ فوجیوں کمانڈروں کی رائے کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی حمتی فیصلہ کریں گے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ امریکہ افغانستان میں کوئی مسقتل اڈہ نہیں رکھنا چاہتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور اس کی بہتری توقعات سے بڑھ کر ہوئی ہے۔

بیان کے مطابق اس وقت افغان سکیورٹی فورسز اسی فیصد آپریشن کو سنبھال رہے ہیں اور آئندہ ماہ تک نوے فیصد افغان عوام کی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

گزشتہ روز امریکہ کے وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ افغانستان اور امریکہ افغانستان کو محفوظ اور خودمختار بنانے کی کوششوں کے ’آخری باب‘ میں پہنچ گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔