شام: ’شمالی فوجی اڈے پر باغیوں کا قبضہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 11 جنوری 2013 ,‭ 14:10 GMT 19:10 PST
شام میں باغیوں کی ایک فائل فوٹو

شام میں ایک برس سے زیادہ سے جنگ کا ماحول ہے

شام میں باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی دن سے جاری شدید لڑائی کے بعد کہا جارہا ہے کہ باغیوں نے ملک کے شمال مغرب میں واقع فوجی اڈے پر قبضہ کرلیا ہے۔

حزب اختلاف کے کارکنان کا کہنا ہے کہ فری سیرئین آرمی نے تفتاناز ہوائی اڈے پر پوری طرح سے قبضہ کرلیا ہے۔ جو ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آئی اس میں اس ہوائی اڈے کے اندر جنگجوؤں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

فوجی ہوائی اڈے کے ہیلی کاپٹروں کو باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

یہ لڑائی ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب شام کے مسئلے پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات جینیوا میں جاری ہیں جس میں امریکہ اور روس کے اعلیٰ اہلکار شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی سے اس بارے میں مذاکرات کررہے ہیں۔

یہ متوقع تھا کہ وہ اس بارے میں بات کریں کہ جون میں عالمی طاقتوں نے شام میں امن کے لیے جو منصوبہ پیش کیا تھا اس پر مزید پیش و رفت کیسے ہو لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بارے میں سفارتی پیش و رفت کے امکانات کم ہی ہیں۔

"جب سے بغاوت شروع ہوئی تب سے اب تک باغیوں کی جانب سےقبضہ کیے جانے والا یہ سب سے بڑا فوجی ہوائی اڈہ ہے۔ فوجی نے اس ہوائی اڈے سے تقریباً سارے ہیلی کاپٹرز ہٹا لیے ہیں اب وہاں صرف وہ ہیلی کاپٹرز موجود ہیں جو کہ کسی کام کے نہیں ہیں۔"

رمی عبدالرحمٰن

روس اور امریکہ شام کے حزب اختلاف کی جماعتوں کے اس مطالبے سے اتفاق نہیں کرتے کہ شامی صدر بشر الاسد کو اپنے عہدے سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔

واضح رہے کہ جہادی گروپ النصرہ فرنٹ، احرالشام، اور اسلامک ونگ گارڈ کی قیادت میں فری سیرئین آرمی کے کئی سو باغیوں نے کئی ہفتے سے ادلیب صوبے میں واقع تفتاناز فوجی اڈے کا محاصرہ کررکھا ہے۔

باغی اس فوجی ہوائی اڈے میں بدھ کی رات داخل ہوئے تھے اور جمعرات تک انہوں نے اس کے آدھے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔

جمعہ کی صبح لوکل کورڈینیشن کمیٹی ایل سی سی اور حزب اختلاف کے کارکنان نے بتایا کہ فری سیرئین آرمی نے ہوائی اڈے پر مکمل قبضہ کرلیا ہے۔

ایل سی سی نے یہ بھی بتایا کہ حکومتی جنگی جہازوں نے تفتاناز کے قریبی علاقے پر بمباری کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین ابزرویٹری فار ہیمن رائٹس کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق وہاں لڑائی گیارہ بجے ختم ہوگئی تھی۔

سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے رمی عبدالرحمٰن نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ’کئی حکومتی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور بہت سارے فوجی اور سرکاری اہلکار وہاں سے بھاگ گئے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شام میں جب سے بغاوت شروع ہوئی تب سے اب تک باغیوں کی جانب سےقبضہ کیے جانے والا یہ سب سے بڑا فوجی ہوائی اڈہ ہے۔

ان کا کہنا تھا فوج نے اس ہوائی اڈے سے تقریباً سارے ہیلی کاپٹرز ہٹا لیے ہیں اب وہاں صرف وہ ہیلی کاپٹرز موجود ہیں جو کسی کام کے نہیں ہیں۔

بدھ کو حزب اختلاف کے ایک کارکن نے کہا تھا کہ فوج نے اپنی کئی جہاز اس لیے اڑا دیے تھے تاکہ باغی انہیں استعمال نہ کر سکیں۔

سیرئین آبزرویٹری فار ہیمن رائٹس کا کہناہے کہ کم از کم پندرہ ہیلی کاپٹرز پوری طرح تباہ ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔