بیجنگ:فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جنوری 2013 ,‭ 18:22 GMT 23:22 PST

چین میں فضائی آلودگي کے سبب کئی شہروں میں دھند چھائی ہے

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں فضائی آلودگي بڑھ کر اس اس سطح تک پہنچ گئی ہے جو انسانی صحت کے لیے خطرہ قرار دی جاتی ہے۔

فضائی آلودگی پر نظر رکھنے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صحت سے متعلق اقوام متحد ہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او نے فضائي آلودگی کے لیے جوخطرے کا نشان مقرر کیا تھا سنیچر کو اس سے بھی زیادہ آلودگي پائی گئی۔

ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق فضائي آلودگی کے ذمہ دار اجزاء جنہیں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو کہتے ہیں، ایک کیوبک میٹر میں پچیس مائیکروگرام سے زیادہ نہیں ہونے چاہیئیں۔

اس کے مطابق اگر یہ اجزاء سو مائيکرو گرام سے اوپر ہوں تو یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور اگر یہ تین سو مائيکرو گرام ہوں تو بچوں اور بوڑھوں کو باہر نہیں نکلنا چاہیے اور انہیں گھر کے اندر ہی رہنے کی ہدایات ہیں۔

بیجنگ میں آلودگي پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے کی جانچ کے مطابق سنیچر کو آلودگي کی یہ سطح چار سو تک پہنچ گئی جبکہ شہر میں امریکی سفارت خانے میں نصب ایک مانیٹر کے مطابق یہ سطح آٹھ سو تک پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ برس چین کے حکام نے امریکی سفارتخانے کو اس طرح کا ڈیٹا شائع کرنے سے منع کیا تھا۔ لیکن سفارتخانے نے کہا تھا کہ اس کی رپورٹ صرف اس کے اپنے عملے کے لیے ہے اور شہر کے لیے نہیں۔

آلودگي پیدا کرنے والے یہ اجزاء اگر سانس کے ذریعے انسانی جسم میں پہنچ جائیں تو اس سے سانس لینے میں مشکل یا پھر یا دمے کی شکایت ہوسکتی ہے۔

بیجنگ میں بی بی سے کے نامہ نگار ڈیمیئن گرامیٹکس کا کہنا ہے کہ کوئلے کا غبار اور کار کا دھواں فضائي آلودگی کے دو اہم ذرائع ہیں۔ ان کے مطابق ملک کی تیز رفتار معاشی ترقی نے شہروں کی فضاء کو آلودہ کر کے رکھ دیا ہے۔

ان کے مطابق گزشتہ کئی روز سے شہر میں دھند چھائي ہوئي ہے۔ ہفتہ کے روز تو کہر آلود دھند اس قدر تھی کہ شہر کے مرکزی حصے میں چند سو میٹر تک ہی دکھائي دے رہا تھا۔

ڈیمیئن کے بقول کھلی فضاء کے ساتھ ساتھ گھروں کے اندر بھی آلودگی کا اثر صاف ظاہر ہے اور اندر بھی فضا دھندلی نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔