فرانس میں دہشت گردی کا خطرہ، ریڈ الرٹ جاری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 13 جنوری 2013 ,‭ 05:36 GMT 10:36 PST

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے مالی میں فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی شدت پسند مالی کو ایک دہشت گرد ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ملک میں عوامی مقامات پر سیکورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے یہ اقدامات فرانس کی مالی اور صومالیہ میں فوجی مداخلت کے بعد اسلامی شدت پسندوں کی طرف سے فرانس میں ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے اٹھائے ہیں۔

فرانس نے گزشتہ جمعہ کو مالی اور صومالیہ میں فوجی اپریشنز شروع کر دیے تھے جو حکام کے مطابق ایک دوسرے سے جڑے نہیں ہیں۔

فرانس میں ایمرجنسی ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

سیکورٹی اقدامات کے حوالے سے صدر فرانسو اولاند نے کہا کہ’ دہشت گردی کے خلاف ضروری جدوجہد کا تقاضا ہے کہ فرانس میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔‘

انہوں نے یہ بیان مالی میں فرانسیسی فوجی کارروائی کا نشانہ بننے والے اسلامی شدت پسند گروپ انصار ڈائن کی طرف سے دھمکیوں کے بعد جاری کیا ہے۔

گروپ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ فرانسیسی شہریوں کو پورے مسلم دنیا میں اس فوجی کارروائی کے نتائج بھگتنے ہونگے۔

واضح رہے کہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے مالی میں فوجی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی شدت پسند مالی کو ایک دہشت گرد ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

" دہشت گردی کے خلاف ضروری جدوجہد کا تقاضا ہے کہ فرانس میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں"

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند

فرانس نے ’ویجیپیریٹ‘ نامی تخریبی کارروائیوں کے خلاف خبردار کرنے کا نظام لاگو کر دیا ہے۔ ہوائی اڈوں، ریل سٹیشنوں اور عوامی مقامات پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

ادھر مالی میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے مطابق فرانسیسی فوج کے فضائی حملوں کے بعد دفاعی نقطۂ نظر سے اہم شہر کونا کو اسلامی شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔

مالی میں مسلح گروپوں نے گزشتہ سال اپریل میں ملک کے شمالی علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ ان مسلح گروپوں میں سے بعض کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

یہ اسلامی گروپ علاقے میں سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔

اسی طرح فرانسیسی کمانڈوز نے جمعہ کو صومالیہ کے شہر بیولو مارر میں مغوی ڈینس ایلکس کو بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کی جو صدر فرانسو اولاند کے مطابق ناکام ہوئی۔

ابھی تک کی کارروائیوں میں مالی میں بمباری کے دوران ایک فرانسیسی پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ صومالیہ میں مغوی سمیت دو فرانسیسی فوجیوں کے ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔

فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ’ہمارا ایک فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہے جبکہ ایسے اشارے ملتے ہیں کہ مغوی ایلکس بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

لیکن شدت پسند تنظیم ال شہاب کا دعویٰ ہے کہ ایلکس فوجی کارروائی کے وقت وہاں نہیں تھا اور وہ زندہ ہیں۔

مالی میں حکام کے مطابق فوجی کارروائیوں کے دوران سو سے زائد شدت پسند ہلاک کیے گئے ہیں۔

برطانوی حکومت نے فرانس کی مالی میں فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ فرانس کو انٹیلیجنس اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔