افریقی فوجی: مالی اور فرانسیسی افواج کی مدد

آخری وقت اشاعت:  پير 14 جنوری 2013 ,‭ 15:42 GMT 20:42 PST
فرانسیسی طیارے

مالی میں فرانسیسی فوجیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے پیر کو یہ فوجی بماکو کے قریب ہوائی اڈے کہا جاتا ہے کہ یہاس سے انھیں مالی کے شمال میں متعین کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں فرانس کی سفیر نے کہا ہے کہ مالی اور فرانسیسی افواج کی مدد کے لیے چند ہی دنوں یا ہفتوں میں ہزاروں افریقی فوجی مالی میں متوقع ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فرانس چاہتا ہے یہ افواج جلد از جلد مالی پہنچیں۔

فرانس کا کہنا ہے کہ اس کے حوائی حملوں نے ان اسلام پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے جنھوں نے گزشتہ سال شمالی مالی پر قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم باغیوں نے پیر کے روز ایک شہر پر قبضہ کر لیا۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران لوگ ان علاقوں سے بھاگ رہے ہیں جنھیں فرانس فضائی کارروائیوں کے دوران نشانہ بنا رہا ہے۔

مذکورہ شہر پر قبضے کے بعد فرانس کے وزیر دفا‏ع نے کہا تھا کہ پیر کو ایک جوابی کارروائی میں مالی کے دارالحکومت بماکو سے چارسو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ڈیابیلی کا قبضے واپس لے لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کی مہم ’موافق سمت میں‘ بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام پسند مشرق میں پیچھے ہٹے ہیں لیکن انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے فرانس کی فوج کو مغرب میں ’سخت حالات‘ کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر باغی دارالحکومت بماکو میں داخل ہو گئے تو ایک بڑے علاقے کی سلامتی کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس نے گزشتہ جمعے کو مالی میں مداخلت شروع کی تھی تاکہ باغیوں کو دارالحکومت بماکو کی جانب پیش قدمی سے روکا جا سکے۔

فرانس کے وزیرِ دفاع نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صومالیہ کے شدت پسند دو فرانسیسی فوجیوں کی لاشوں کی نمائش کریں گے جو ایک فرانسیسی یرغمالی کو بچانے کی کوشش میں مارے گئے تھے۔

اسلام پسند جنگجو

اسلام پسند جنگجوؤن نے گذشتہ سال مالی کے ایک شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اتوار کو فرانسیسی طیاروں نے ڈیابیلی کے نزدیک باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا اس کے بعد اسلام پسند باغیوں نے اتوار کی رات جوابی کارروائی میں ڈیابیلی کے اہم ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے۔

فرانسیسی وزیرِ دفاع نے بی ایف ایم ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا انہوں نے شدید جنگ اور مزاحمت کے بعد ڈیابیلی پر قبضہ کرلیا۔

اس شہر کے ایک رہائشی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ (شدت پسند) دریا عبور کر کے چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں گزشتہ رات شہر میں داخل ہونے لگے۔

مالی کے فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ايف پی کو بتایا کہ فرانسیسی طیاروں کے حملے کے نتیجے میں باغی موریٹینیائی سرحدی علاقے سے داخل ہوئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔