شام کے شہر حلب کی یونیورسٹی میں بم دھماکہ، 80 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 17:56 GMT 22:56 PST
شام، حلب

شام کے شہر حلب کی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے میں متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں بتایا جا رہا تھا کہ دھماکہ یونیورسٹی میں اس وقت ہوا جب طلبہ امتحان دے رہے تھے اور اس دھماکے میں پندہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ دھماکہ طلبہ کے رہائشی بلاکوں کے قریب ہوا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق یونیورسٹی میں ایک دہشت گردی کا حملہ ہوا ہے تاہم ابھی تک اس حملے کے محرکات کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔ دوسری جانب باغیوں نے دھماکے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی ہے۔

حلب شہر میں شامی سکیورٹی فورسز نے باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے کئی بار کارروائی کی ہے۔

شام میں گزشتہ چند ماہ سے باغیوں نے بعض علاقوں میں برتری حاصل کی ہے اور حلب شہر کا ایک بڑا حصہ ان کے قبضے میں ہے۔

یونیورسٹی ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جو حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ثناء نیوز کے مطابق یونیورسٹی میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہاں طالب علموں کے امتحانات کا پہلا دن تھا۔

برطانیہ سے شام میں حقوق انسانی پر نظر رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق دو دھماکے ہوئے ہیں اور اس میں کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نظر آنے والے مناظر میں ایک لاش اور درجنوں گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔

اس سے پہلے باغیوں نے حلب شہر میں حکومتی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

حلب میں گزشتہ سال اکتوبر میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں چونتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی تحریک میں اب تک ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔